ایرانی پارلیمانی سپیکر نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، یہ بزور معاہدہ کے مترادف ہے، دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کسی صورت قبول نہیں۔
امریکی کی جانب سے بار بار مذاکرات کے حوالے سے دھمکی آمیز رویہ اپنانے پر ایرانی پارلیمانی سپیکر و سربراہ مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کر دیا کہ امریکی دھمکیاں اور جنگ بندی خلاف ورزیاں سفارتی عمل میں رکاوٹیں ہیں۔
ایرانی پارلیمانی سپیکر نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، یہ بزور معاہدہ کے مترادف ہے، دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کسی صورت قبول نہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا مگر امریکا پر اعتماد نہیں، مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا تاحال کوئی ارادہ نہیں، وفد پاکستان نہیں جائے گا۔
ادھر وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دھمکیاں اور جنگ بندی خلاف ورزیاں سفارتی عمل میں رکاوٹیں ہیں، ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائی اور اس راہ میں مداخلت کسی صورت قابل قبول نہیں۔