اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے میں جہاں 250 سے زائد شہادتیں ہوئیں وہیں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اس کے حواب میں حرب اللہ نے بھی کارروائی کی، اور لبنانی مذاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل داغنے کا اعتراف کر لیا۔
حزب اللہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے ہیں، اور یہ جوابی کارروائی امریکہ ایران جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر کی گئی، ادھر ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بدلے میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس سے جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑ چکا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اسرائیل کا لبنان پر بمباری کرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ یہاں مشرق وسطیٰ مِیں جاری اس اہم تنازعے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ اور ایران میں جنگ بندی معاہدہ غیر مستحکم نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لبنان بھی جنگ بندی میں شامل ہو، ورنہ یہ پورے خطے کو غیر مستحکم کر دے گا، ابھی گزشتہ شب کی ہی بات ہے کہ جو شدت اسرائیل نے دکھائی وہ گہرے نقصانات کا باعث بنی اور یہ عالمی امن کیلئے بھی شدید خطرہ ہے۔