پشاور میں سورج آگ برسانے لگا، پارہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز، محسوس درجہ حرارت 50 ڈگری، لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی
پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں سورج آگ برسانے لگا ہے۔ شہر میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے کے باعث محسوس ہونے والا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ شدید دھوپ، حبس اور گرم ہواؤں نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جبکہ دوپہر کے اوقات میں بیشتر سڑکیں، بازار اور عوامی مقامات سنسان دکھائی دیے۔
شدید گرمی کے ساتھ مختلف علاقوں میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی بندش کے باعث گھروں میں پنکھے، ایئر کنڈیشنر اور دیگر برقی آلات بند رہے، جس سے حبس میں اضافہ ہوا اور شہری شدید اذیت کا شکار رہے۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی، جس سے لوگوں کو پینے کے پانی سمیت روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
گرمی کی شدت کا سب سے زیادہ اثر بچوں، بزرگوں، خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا افراد پر پڑا۔ کئی بچے شدید گرمی اور پانی کی کمی کے باعث نڈھال ہو گئے، جبکہ متعدد افراد کو چکر آنے، بے ہوشی، کمزوری اور ہیٹ اسٹروک جیسی علامات کے بعد اسپتالوں اور طبی مراکز کا رخ کرنا پڑا۔ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں گرمی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں طبی عملہ مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف رہا۔
بازاروں اور تجارتی مراکز میں بھی گرمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں۔ دکانداروں کے مطابق دوپہر کے اوقات میں گاہکوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہی، جبکہ تعمیراتی مقامات، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں، دیہاڑی دار مزدوروں اور دیگر کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مزدوروں نے شدید گرمی کے باعث کام عارضی طور پر روک دیا، جس سے ان کی روزانہ کی آمدنی بھی متاثر ہوئی۔
دوسری جانب شہریوں نے بجلی کی طویل بندش پر شدید تشویش اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شدید گرمی کے دوران لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ سخت گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی نے گھروں میں رہنا بھی مشکل بنا دیا ہے اور بیمار، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلا ضرورت دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی، او آر ایس اور دیگر مشروبات کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں، بچوں اور بزرگوں کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں اور ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔
۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گرمی سے بچاؤ کے لیے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے کل سے بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے۔