وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت، قومی اتحاد پر زور
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مضبوطی اور استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت کی جانب پیش رفت کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہی قوم کے نمائندے ہیں، کوئی لڑائی نہیں ہونی چاہیے، حکومت بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے اور وہ خود پہل کرنے کے لیے بھی آمادہ ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ صوبوں کے مالی حقوق ان کا آئینی حق ہیں اور بلوچستان کا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ 100 فیصد بڑھایا گیا، جو کسی پر احسان نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں تمام صوبوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
بلوچستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کا خوبصورت اور باوقار صوبہ ہے، جہاں کسانوں کو اربوں روپے مالیت کے سولر پینلز فراہم کیے گئے ہیں جبکہ گوادر سے چمن تک شاہراہ کی تعمیر پر 300 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف عظیم قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت قوم کے کروڑوں بچے محفوظ ہیں اور ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور قوم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں” اور ملک کو مستحکم بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔