وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 2170 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین، کسانوں، طلبہ، نوجوانوں اور عام شہریوں کے لیے متعدد فلاحی اقدامات کا اعلان کیا۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کنونس الاؤنس میں 50 فیصد اضافے اور سپیشل الاؤنس کو 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
تعلیم کے شعبے کے لیے 468 ارب 37 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 419 ارب 73 کروڑ روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ صحت کے شعبے کا بجٹ بھی بڑھا کر 334 ارب 87 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اس مد میں 275 ارب 79 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔
ڈیجیٹل ترقی کے منصوبوں کے تحت پشاور میں مفت وائی فائی سہولت فراہم کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح صوبے میں جدید سائبر سکیورٹی آپریشن سنٹر کے قیام کے لیے 90 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کسانوں کی معاونت کے لیے ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کی مد میں 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کے لیے بھی 2 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کا پروگرام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت تقریباً 30 ہزار شہریوں کو فی کس 5 لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جائے گا۔
ماحولیاتی تحفظ اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی خریداری پر اڑھائی ارب روپے کی بلاسود سبسڈی سکیم بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 12 ارب روپے کا خصوصی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ضلع مردان میں سرخاوئی ڈیم منصوبے کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ میں عوامی ریلیف کے ایک اور اہم اقدام کے طور پر 5 مرلے تک رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنا دینے کی تجویز شامل کی گئی ہے، جس سے صوبے کے تقریباً دو لاکھ گھرانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بجٹ کا مقصد عوامی فلاح، معاشی استحکام، روزگار کے مواقع میں اضافہ، تعلیم و صحت کی بہتری اور صوبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔