وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کمیٹی کے اجلاس میں دیر موٹر وے منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر تعمیر کرنے کی اصولی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے لیے زمین کی خریداری کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے اور منصوبے پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے واضح ٹائم لائنز مرتب کی جائیں۔ انہوں نے منصوبوں پر تیز رفتار پیش رفت کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 29 کلومیٹر طویل دیر موٹر وے چکدرہ انٹرچینج سے بارون، ضلع لوئر دیر تک تعمیر کی جائے گی، جبکہ اس منصوبے کی تخمینہ لاگت 69 ارب روپے رکھی گئی ہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ دیر موٹر وے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے لیے ایک اہم تحفہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تکمیل سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کا خرچ اور سفری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی مضبوطی میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے مالاکنڈ ڈویژن کے دور افتادہ سیاحتی علاقوں تک رسائی مزید بہتر ہوگی۔
اجلاس میں پشاور۔ڈی آئی خان موٹر وے اور سوات موٹر وے فیز ٹو پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ نے تمام جاری اور مجوزہ منصوبوں پر بروقت اور تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔