ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی قسم کی پیشگی جارحیت پر یقین نہیں رکھتا، تاہم اگر اس کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو ایران سخت اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کرے گا۔
ایک بیان میں صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران کی دفاعی پالیسی مکمل طور پر ردعمل پر مبنی ہے اور ملک کسی تنازع کو شروع کرنے کا خواہاں نہیں،ایران ہمیشہ خطے میں استحکام اور امن کا حامی رہا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے توانائی کے مراکز، صنعتی تنصیبات یا دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے،ایسی کسی بھی کارروائی کا جواب نہ صرف فوری بلکہ بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔
صدر پیزشکیان نے علاقائی ممالک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک کی زمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو اسے بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
