وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نےکہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
اڈیالہ
جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج فیملی کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال یا کسی معیاری طبی مرکز میں ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں کیا جائے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ رویہ غیر آئینی اور غیر انسانی ہے، اور عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی تشویشناک ہے۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی بندش اس بات کی علامت ہے کہ ان کی صحت یا صورتحال کو چھپایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ہی پی ٹی آئی ہیں اور خیبرپختونخوا میں حکومت ان کی قیادت کے بغیر تصور نہیں کی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فارورڈ بلاک کی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اراکین عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں اور کسی قسم کی تقسیم موجود نہیں۔
وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں معاشی صورتحال بگڑ رہی ہے، قرضوں میں اضافہ، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے،گزشتہ چند سالوں میں ملک کا قرضہ 43 ہزار ارب سے بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور آئندہ بجٹ عوام پر مزید بوجھ ڈالے گا۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کابینہ نے بجٹ پیپرز کی منظوری دے دی ہے اور صوبائی بجٹ کو عوام دوست قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کی بہنوں سے مشاورت کے بعد آئندہ سیاسی لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جبکہ گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی آئی کی مضبوط پوزیشن برقرار ہے۔