• اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے
  • اخبار
  • 0912584506
  • 93008563368+
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز

irshad
Share
SHARE
 خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے نئے مالی سال 2025.26 کے لیے 2170 ارب روپے مالیت کا بجٹ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کردیا ہے جس کے لیے آمدنی کا تخمینہ 2122 ارب روپے لگایا گیا ہے اس طرح صوبے کو 45 ارب روپے خسارے کا سامنا رہے گا، اخراجات جاریہ کے لیے1645.708 ارب روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 524.292 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے، محنت کشوں کی ماہانہ اجرت میں چالیس سے بڑھا کر 45 ہزار کردی گئی، صوبائی تنخواہوں پر 334 ارب، تحصیل تنخواہوں پر 305 ارب ، پنشن 201 ارب اوردیگرپر 457 ارب خرچ ہونگے، 57 ارب روپے قرضہ جات کی مد میں واپس کیے جائیں گے، وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی میں صوبے کے نئے مالی سال 2025.26 کا بجٹ پیش کیا، بجٹ دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال کے لیے بجٹ کا کل تخمینہ 2 ہزار 170 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں اخراجات جاریہ کے لیے 1645.708 ارب روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 524.292 ارب روپے رکھے گئے ہیں، بجٹ کا کل خسارہ 48 ارب روپے ہے، دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹاءرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کردیا ہے، سرکاری ملازمین کی ایڈہاک ریلیف 2022 اور2025 کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنےکی بھی منظوری دی گئی ہے، سرکاری ملازمین کے سفری الاءونس میں 50 فیصد اضافے اور ملازمین کے سپیشل سفری الاءونس کو6 سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کردیاگیا ہے،سیکرٹریٹ ملازمین کی راہءش کے مساءل کو حل کرنے کے لیے ہاءوس ریکوزیشن الاءونس متعارف کرایا جارہا ہے، خیبرپختونخوا حکومت نے محنت کشوں کی کم ازکم اجرت کو بڑھا کر45000 روپے کرنے کا اعلان کردیا ہے، صوبہ کو وفاقی محصولات سے 1584٫939 ارب روپے جبکہ صوبائی محصولات سے 182٫410 ارب روپے حاصل ہونگے، ضم شدہ اضلاع کی مد میں 199٫084ارب ، بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے محصولات 150٫020 ارب کے ہونگے، مرکزی حکومت کی امداد سے چلنے والے ترقیاتی وغیرترقیاتی مصوبوں کے لیے 5٫188 ارب موصول ہونگے، صوبائی تنخواہوں پر 334 ارب، تحصیل تنخواہوں پر 305 ارب ، پنشن 201 ارب اوردیگرپر 457 ارب خرچ ہونگے، 57 ارب روپے قرضہ جات کی مد میں واپس کیے جائیں گے، ضم اضلاع میں 180ارب روپے خرچ کیے جائیں گے،صوبہ کے مجموعی طور پر اخراجات جاریہ کا تخمینہ 1645ارب روپے لگایاگیاہے، اگلے مالی سال کے لیے پولیس کا بجٹ 191٫393 ارب روپے کردیاگیا، پولیس کے لیے جدید اسلحہ اور گولہ بارود خریداری کے لیے 7٫77 ارب، بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 1٫817 ارب ، پولیس ماہانہ آپریشنل سپورٹ کے لیے 7٫9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ضلع اپر و لوئر جنوبی وزیرستان ، اورکزئی اور کرم کے لیے جدید سیف سٹی کے قیام کے لیے 1٫78 ارب روپے مختص کئے گئے، خیبرمہمند اورباجوڑ کے لیے 1٫6 ارب روپے ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے پولیسنگ اورپٹرولنگ نظام متعارف کرانے کے لیے ایک ارب روپے پشاورمیں فارنزک ساءنس لیبارٹری کے قیام کے لیے 60 کروڑ روپے، سرکاری یونیورسٹیوں کی گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 11٫84 ارب روپے14 نئے گورنمنٹ کالجز کی تعمیر کے لیے 362 ملین جبکہ نوجوانوں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے سے انٹرن شپ پروگرام شروع کیاجاءے گا، مہمند اور جنوبی وزیرستان بالا میں ضلعی سپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر کا منصوبہ اگلے سال شامل کیا گیا ہے ہزارہ ڈویژن میں 8 تحصیل کھیلوں کے گراءونڈز کے لیے 150 ملین جبکہ خیبرانسٹیٹیوٹ آف اپلاءیڈ اینڈ ماڈرن ساءنسز کے نام سے تعلیمی ادارہ کے قیام کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ماڈل کالجز میں طلبہ کو ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کرنے کے منصوبہ کے لیے 40 ملین روپے 5 ارب روپے کی لاگت سے صوبہ کے پہلے ٹرائبل میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے لیے 38 کروڑ مختص کیے گئے ہیں، نوجوانوں میں سپورٹس ٹیلنٹ بڑھانے کے لیے گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 110 ملین، گریجویٹس کے لیے روزگار کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے 20 کروڑ روپے یونیورسٹی طلباء کے لیے مارک اپ فری سبسڈی کی مد میں 2 ارب روپے مختص کیے گئے جس کے تحت دس ہزار طلبہ کو فی کس 5 لاکھ روپے فراہم کیے جاءیں گے، اگلے مالی سال زرعی گریجویٹس کو مارک اپ فری قرضہ کی فراہمی کے لیے 225 ملین روپے، اگلے مالی سال گڈ گورننس اقدامات کے لیے 19٫3 ارب روپے ٹی ڈی پیز کے لیے اگلے مالی سال میں 17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، احساس مستحقین پروگرام کے لیے 15 ارب روپے، احساس ماں، نئی زندگی نئی امید پروگرام کے لیے ایک ارب، دوبچوں کی پیدائش پر فی بچہ 20 ہزار روپے مالی معاونت کی جائے گی، خصوصی طلبہ کے لیے سکولوں کی بہتری پروگرام کے لیے 100 ملین روپے رکھےگئے ہیں، معذور افراد اور بیوہ خواتین کے لیے بلاسود کاروباری قرضوں کا پروگرام شروع کیاجاءے گا جس کے لیے 23 کروڑ روپے مختص کیے گءے ہیں، 1٫1 ارب روپے کی لاگت سے پانچ عدد زمونگ کور کمپلیکسز تعمیر کیے جائیں گے، صحت کارڈ پلس پروگرام کا بجٹ 41 ارب سے بڑھا کر 50 ارب روپے کردیاگیاہے، سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لیے 14٫263 ارب روپے ہسپتالوں کی انتظامی بہتری کے نظام کو مزید 72 ہسپتالوں تک توسیع دی جارہی ہے، ایم ٹی آئیز کا بجٹ 65 ارب سے بڑھا کر 80 ارب روپے کردیا گیا ہے، کیٹگری ڈی ہسپتال جمرود کی تدریسی ہسپتال کے طور پر اپ گریڈیشن 9٫9 ارب کی لاگت سے کی جائے گی، پشاورمیں نئے جنرل ہسپتال کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے کا منصوبہ شامل،270 ملین روپے، کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کے لیے 20 کروڑ روپے، فعال بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کی بہتری کے لیے 825 ملین روپے ،مختص کیے گئے ہیں، صحت کے شعبہ میں گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت ایک ارب 35 کروڑ روپے خرچ کے جاءیں گے، وزیراعلیٰ اقدامات برائے آئوٹ آف سکول چلڈرن کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اگلے مالی سال کے بجٹ میں مفت نصابی کتب کی فراہمی کے لیے ساڑھے 8 ارب روپے، ابتدائی وثانوی تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 10٫34 ارب روپے، کارکردگی رکھنے والے سکولوں کے انتظام وانصرام میں بہتری کے لے تین ارب 29 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، پراءمزی سکولوں میں اساتذہ کی فراہمی کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے، تعلیم کارڈ پروگرام کے لیے 36 کروڑ جبکہ اساتذہ والدین کونسلز کی استعدادبڑھانے کے لیے 6 ارب روپے، صوبہ کے ضم اضلاع میں 72 وزیراعلیٰ ماڈل سکولوں کے قیام کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بجٹ دستاویزات کے مطابق ضم اضلاع میں سکولوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ کے لیے 18 کروڑ روپے، ڈویژنل ہیڈ کوارٹرزمیں پبلک سیکٹرٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے 2 ارب، ریسکییو سروسز کی تمام تحصیلوں میں توسیع کے لیے دو ارب 20 کروڑ کے 15 منصوبے شامل، 75 کروڑ مختص، ،ماءننگ ریسکیو سروسز کی استعدادکار بڑھانے کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے، لوکل کونسلز کے لیے 22 ارب واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہزارہ کی عوام کی محرومیوں کے ازالہ کے لیے 200 ارب کا خوشحال ہزارہ پروگرام شامل،119 منصوبوں کے لیے 4 ارب 20 کروڑ مختص کیے گئے ہیں، اپر چترال کے لیے انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ پیکج شامل کیا گیا جس کے لی200 ملین مختص کیے گئے ہیں ضم اضلاع اور سب ڈویژنز میں روخانہ قبائل ڈیویلپمنٹ پیکج کے تحت 31٫5 ارب کی لاگت کے منصوبے شامل ہیں،ضم اضلاع میں احساس نوجوان پروگرام کے لیے 20 کروڑ روپے، ہنگو، لکی مروت، کوہاٹ، ہری پور، صوابی اور کرک میں علاقائی ترقی کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 80 کروڑ روپے، صوبائی حکومت نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی کےقیام کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے، ڈیجیٹل سٹی ہری پورکےقیام کےلیے 22 کروڑ روپے، ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم کو جدیدخطوط پر استوار کرنے کے لیے 37 کروڑ، ایمرجنسی خدمات کی ڈیجیٹل انٹیگریشن کے لیے 30 کروڑ روپے، خیبرپختونخوا سائبر سیکورٹی آپریشن سینٹر کےقیام کے لیے 90 کروڑ، ضم اضلاع ڈیجیٹل کنیکٹ فیز دو منصوبہ کے لیے 3 کروڑ، ڈیجیٹل پنشن اورپے رول منیجمنٹ سسٹم کے لیے 50 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، آئندہ مالی سال کے دوران ضم اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 29 اور اے آءی پی کے لیے 52 ارب روپے مختص کیے گئے، صوبہ میں سڑکوں کے شعبہ کے لیے 243نءے اور482 جاری منصوبوں پر عمل ہوگا،52 ارب روپے، ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی علاقوں تک رساءی کے لیے سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ،92 کروڑ روپے مختص، ملاگوری ماربل کلسٹر کےلیے 10 کروڑ ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ کے لیے 80 کروڑ روپے کی لاگت کا منصوبہ بجٹ کا حصہ ہے، رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے 77 کروڑ جبکہ مہمند ماربل سٹی کے قیام کے لیے 14 کروڑ روپے،جنوبی اضلاع میں بنجر اراضی میں کھیتی باڑی کے منصوبہ کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے، خیبرپختونخواانٹگریٹیڈسیاحتی ترقیاتی منصوبہ کے لیے 3 ارب زرعی اصلاحات اور خواتین کی معاشی ترقی کے لیے 10 کروڑ، اقلیتی برادریوں کے سماجی تحفظ اور معاشی خودکفالت پروگرام کے لیے 5 کروڑ روپے، وومن اکنامک امپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ کے لیے 100 ملین، احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب، صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 12 ارب71 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، کوہاٹ میں واٹر سپلائی کے دو منصوبوں کے لیے 15 کروڑ روپے، تیمرگرہ سٹی میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے ڈھاءی ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ بجٹ کا حصہ ہے، موجودہ پینے کے پانی کی سکیموں میں پانی ذخیرہ اور تقسیم کے نظام کی بہتری کے لیے 10 کروڑ روپے دیر بالاٹاءون اور واڑی میں دو واٹرسپلاءی منصوبوں کے لیے 3 ارب30 کروڑروپے رکھےگئے ہیں، ترقیاتی بجٹ میں ماحولیات کے شعبہ میں 98٫99 ملین روپے مختص، چار نئے اور3 جاری منصوبوں پر کام ہوگا، ضم اضلاع میں گھروں کو شمسی تواناءی پر منتقل کرنے کے لیے 13 ارب 23 کروڑ روپےرکھے گئے ہیں، وادی تیراہ میں ماءیکروہاءیڈل پاور سٹیشنز کی بحالی کے لیے 13 کروڑ صوبہ میں گھروں کو سو فیصد سبسڈی کے ساتھ شمسی تواناءی پر منتقل کرنے کے لیے ایک ارب مختص، قدرتی آفات سے نمٹنے اور پیشگی اقدامات کے لیے25 ملین روپے رکھے گئے ہیں، قرضہ جات منیجمنٹ فنڈ کی طرز پر قدرتی وہنگاءی آفات سے نمٹنے کے لیے 12 ارب روپے سے فنڈ قاءم کیا جاءے گا، آبپاشی کے نظام میں بہتری کے لیے ڈیموں ، نہروں اور واٹرریچارج منصوبوں کے لیے 22 ارب 77 کروڑ روپے ، مردان میں تین ارب روپے کی لاگت سے سرخاوءی ڈیم منصوبہ کے لیے 20 کروڑروپے، ضلع ہری پور میں ایک ارب 45 کروڑ کی لاگت سے برواساڈیم کا منصوبہ شامل ہے، ہنگو میں 7 ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے تورہ وادی ڈیم منصوبہ شامل ریچارج ڈیم بونیر کے تحت زیر زمین پانی کی سطح کی بحالی منصوبہ کے لیے20 کروڑ روپے مختص کیے گئے، خان میر کلے ڈیم اورکزءی کی تعمیر کے لیے 7 ارب 40 کروڑ کا منصوبہ اےڈی پی کا حصہ، خان کوٹ ڈیم ضلع جنوبی وزیرستان کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ شامل ہے، ضم اضلاع میں زرعی پانی کے موثر استعمال وآبی ذخاءر کے تحفظ کے لیے ایک ارب 20 کروڑ روپے لاگت کا منصوبہ اے ڈی پی کا حصہ ہے،

خیبر پختو نخوا میں زائد کرایہ وصول کرنے والی سی این جی گاڑیوں کیخلاف سخت کاروائیوں کا فیصلہ، بھاری جرمانے اور روٹ پرمٹ معطل ہوگا
دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کیلئے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امدادی پیکج کی منظوری
پشاور: میٹرک امتحانات میں بائیولوجی کے ایم سی کیوز لیک، عملہ معطل، تحقیقات کا آغاز
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 23 دہشت گرد ہلاک
خیبرپختونخوا میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران دہشت گردی سے 413 افراد شہید، 979 زخمی
Share This Article
Facebook Email Print

Follow US

Find US on Social Medias
1.3kLike
XFollow
YoutubeSubscribe
TelegramFollow
تازہ ترین
خیبرپختونخوا

ایران کا امریکا کو انتباہ: دھمکی آمیز رویہ ترک کریں، سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے

پشاور ہائی کورٹ نے 24 سرکاری ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف درخواستیں مسترد کر دیں
امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب، دستخط کے وقت پر اختلاف برقرار
ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوسکتی,ڈونلڈ ٹرمپ
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے سینیٹ ضمنی انتخابات کیلئے عرفان سلیم کو امیدوار نامزد کر دیا

زمرے

  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سیاست
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل

ہمارے بارے میں

روزنامہ آئین ایک باوثوق، مستند اور اہم خبروں پر مبنی کثیر الاشاعت اخبار ہے جو خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ یہ اخبار آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) سے باقاعدہ طور پر تصدیق شدہ ہے اور پشاور و اسلام آباد سے بیک وقت بلاتعطل شائع ہو رہا ہے،

اہم روابط

  • اخبار
  • اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • دستبرداری

سماجی رابطے

  • ہمارا فیس بک پیج
  • ہماری ٹویٹر پروفائل
  • ہماری انسٹاگرام پروفائل

سماجی رابطے

  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • بین الاقوامی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
Copyright © 2026, Daily Aeen. Designed & Developed by Pixel Pro
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?