ضلع بنوں کے مختلف علاقوں نرمی خیل، بکاخیل اور تختی خیل میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران مختلف مقامات پر سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ وقفے وقفے سے متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نرمی خیل مداروپ میں فضائی کارروائی کی گئی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس عمارت کو مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر اپنے مرکز اور ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران جیٹ طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے بھی مبینہ شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ بکاخیل کے مداروپ اور نرمی خیل کے ایک کالج کی عمارت، جسے مبینہ طور پر مسلح عناصر استعمال کر رہے تھے، پر بھی فضائی کارروائی کی گئی۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران سنائی دینے والے بعض دھماکے ممکنہ طور پر بارودی مواد کے ذخائر پھٹنے کے باعث ہوئے، تاہم اس حوالے سے بھی تاحال کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور سرچ و کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
آخری اطلاعات تک آپریشن جاری تھا، جبکہ جانی نقصان یا گرفتار افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔