خیبرپختونخوا پولیس کے 2 ہزار 659 اہلکار اور افسران اب تک جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، کانسٹیبل سے لے کر ایڈیشنل آئی جیز تک خیبرپختونخوا پولیس نے صوبے کی امن و امان سمیت جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں کے دوران جان کی قربانی دی ہے،
سنٹرل پولیس آفس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 1970سے 2026 تک 2659 پولیس اہلکاروں و افسران شہید ہو چکے ہیں، سال 2025 پولیس کے لیے سب سے زیادہ جانی نقصان کا سال ثابت ہوا، جب 235 اہلکار اور افسران شہید ہوئے، 2009 میں 211، 2023 ،، 197، 2008 ،،، 172، 2024 میں 169 جبکہ 2011 میں 154 پولیس اہلکار اور افسران نے جامِ شہادت نوش کیا۔
رواں سال 2026 میں بھی اب تک 150 پولیس اہلکار اور افسران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ شہدا میں ہر رینک کے افسران اور اہلکار شامل ہیں،
دستاویز کے مطابق اب تک دو ایڈیشنل انسپکٹر جنرلز، دو ڈی آئی جیز، ایک ایس ایس پی، چھ ایس پیز، 24 ڈی ایس پیز، ایک اے ایس پی، 54 انسپکٹرز، 161 سب انسپکٹرز، 157 اے ایس آئیز، 346 ہیڈ کانسٹیبلز اور ایک ہزار 906 کانسٹیبلز شہید ہو چکے ہیں۔
ضلعی سطح پر سب سے زیادہ 386 پولیس اہلکار اور افسران صوبائی دارالحکومت پشاور میں شہید ہوئے، بنوں میں 265، ڈیرہ اسماعیل خان ،، 259، مردان ،، 118، سوات ،، 115، لکی مروت ،، 96 جبکہ چارسدہ میں 88 پولیس جوان شہید ہوئے۔
فورسز کے اعتبار سے فرنٹیئر ریزرو پولیس کے 240، ایلیٹ فورس کے 134 اور سی ٹی ڈی کے 84 اہلکاروں نے بھی فرض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔