خیبرپختونخوا اسمبلی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز ، رانا ثنا اللہ اور عظمی بخاری کی جانب سے خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کو پنجاب میں دہشتگردی سے جوڑنے والے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے مریم نواز کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی سفارش کردی۔
صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون آفتاب عالم نے قرارداد پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ مریم نواز، رانا ثنا اللہ اور عظمی بخاری کے بیانات حقائق کے منافی، غیر سنجیدہ اور سیاسی مفادات کے تابع ہیں، جو خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہیں۔
دہشتگردی جیسے قومی اور حساس مسئلے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کرنا اور ایک صوبے کو دوسرے صوبوں کے خلاف کھڑا کرنا قومی یکجہتی اور وفاقی روح کے منافی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں جبکہ دہشتگردی کسی ایک صوبے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کیلئے ایک مشترکہ چیلنج ہے، جس کا مقابلہ قومی اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ایوان نے واضح کیا کہ ایسے بیانات جو کسی صوبے کو دہشتگردی سے جوڑ کر اس کی قربانیوں کو متنازع یا بدنام کرنے اور صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا باعث بنیں قابل مذمت ہیں اور قومی سطح پر دہشتگردی کے خلاف بیانیے کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی کہ مریم نواز شریف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کے قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔