پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے ساتھ فنانس بل بھی صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا، جس میں حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تاہم مختلف شعبوں میں ٹیکس نظام کو تبدیل کرتے ہوئے کئی نئی شرحیں، چھوٹ اور جرمانے شامل کیے گئے ہیں۔
فنانس بل کے مطابق انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 0.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 5 مرلے تک رہائشی اور کمرشل پراپرٹی کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہوٹل بیڈ ٹیکس بھی 7 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
کم آمدن والے افراد کو ریلیف دیتے ہوئے کم از کم ماہانہ آمدنی رکھنے والوں پر پروفیشنل ٹیکس ختم کرنے جبکہ گریڈ 1 سے 6 تک سرکاری ملازمین کو پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ صنعتی عمارات کے ٹیکس بقایاجات پر 30 فیصد رعایت بھی شامل کی گئی ہے۔
کاروباری شعبوں پر ٹیکس شرحیں
فنانس بل میں مختلف کاروباروں کے لیے سالانہ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے:
- ویڈیو شاپس، پراپرٹی ڈیلرز، کار ڈیلرز اور نیٹ کیفے: 10 ہزار روپے
- چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس: 25 ہزار روپے
- ٹرانسپورٹ کمپنیاں: 10 سے 15 ہزار روپے
- اسٹاک ایکسچینج ارکان: 60 ہزار روپے
- جنرل و کریانہ اسٹورز: 5 ہزار روپے
- الیکٹرانکس دکانیں: 25 ہزار روپے
- کیبل آپریٹرز اور پرنٹنگ پریس: 10 ہزار روپے
- تمباکو ڈیلرز و برآمد کنندگان: 25 ہزار روپے
- تھوک فروش: 35 ہزار روپے
- کیمسٹ و میڈیکل اسٹورز: 20 ہزار روپے
- درزی: 5 ہزار سے 15 ہزار روپے
- آٹا چکیاں: 40 ہزار روپے
- بھٹہ خشت، ریٹ ڈپو اور تعمیراتی سامان سپلائرز: 20 ہزار روپے
- بیوٹی پارلرز، حلوائی اور بیکرز: 15 ہزار روپے
- ماربل فیکٹریاں: 20 ہزار روپے
کمرشل گاڑیوں پر نئی ٹیکس شرح
موٹر وہیکل ایکٹ 1958 میں ترمیم کرتے ہوئے کمرشل گاڑیوں کے لیے نئی ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں:
- رکشہ: سالانہ 1000 روپے
- 4 نشستوں والی گاڑی: 1500 روپے
- 6 نشستوں والی گاڑی: 2000 روپے
- 15 نشستوں والی گاڑی: فی نشست 400 روپے
- 15 سے زائد نشستوں والی گاڑی: فی نشست 500 روپے
ہوٹل اور سروس سیکٹر
ہوٹلوں سے کمروں کی تعداد اور حقیقی آمدورفت کی بنیاد پر 5 فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔ ایسے ہوٹل جہاں POS سسٹم موجود نہیں ہوگا، وہاں رہائشی یونٹس کے 50 فیصد اور حقیقی کمرہ کرائے کے 10 فیصد کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
پراپرٹی ٹیکس کی نئی شرحیں
ذاتی استعمال کے علاوہ جائیدادوں پر نئی شرحیں تجویز کی گئی ہیں:
- 5 مرلے تک: 1200 سے 2000 روپے سالانہ
- 5 سے 10 مرلے: 1500 سے 3000 روپے
- 10 سے 15 مرلے: 2000 سے 3500 روپے
- 15 سے 18 مرلے: 2500 سے 4700 روپے
- 18 سے 20 مرلے: 5000 سے 15000 روپے
- 20 سے 30 مرلے: 6000 سے 25000 روپے
- 30 سے 40 مرلے: 10000 سے 30000 روپے
- 40 مرلے سے زائد: 15000 سے 40000 روپے
کرائے، لیز یا دیگر انتظامات کے تحت دی گئی جائیدادوں پر دگنا ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔ سرکاری اداروں کو کرائے پر دی گئی املاک پر 10 فیصد، بینکوں اور ترقیاتی اداروں کو دی گئی املاک پر 15 فیصد جبکہ نجی ہسپتالوں کو دی گئی املاک پر 5 فیصد ٹیکس کی سفارش کی گئی ہے۔
ٹیکس خلاف ورزیوں پر جرمانے اور سزائیں
فنانس بل میں ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر سخت اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
- ٹیکس ریٹرن مقررہ وقت پر جمع نہ کرانے پر روزانہ 300 روپے جرمانہ
- رجسٹریشن نہ کرانے پر کم از کم 4 لاکھ روپے جرمانہ
- رجسٹریشن کی تفصیلات میں غلط تبدیلی پر 25 ہزار روپے جرمانہ
- ٹیکس ریکارڈ میں ردوبدل پر 5 لاکھ روپے جرمانہ یا چھپائی گئی فروخت کا 5 فیصد جرمانہ
- غلط دستاویزات جمع کرانے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ یا ایک سال قید
دیگر اہم تجاویز
فنانس بل کے مطابق یکم جولائی 2025 کے بعد منظور ہونے والے اے ڈی پی منصوبوں پر 4 فیصد ٹیکس ہوگا، تاہم غربت کے خاتمے، خواتین، بچوں اور معذور افراد کے منصوبے اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
آن لائن یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے خدمات فراہم کرنے والوں سے 5 فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز سے 65 ہزار روپے جبکہ موبائل فون ٹاورز کے لیے استعمال ہونے والی عمارات اور اراضی پر 20 سے 40 ہزار روپے ٹیکس مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پروفیشنل ٹیکس کی شرحیں
- 65 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے افراد: 1400 روپے
- گریڈ 7 تا 12 سرکاری ملازمین: 1200 روپے
- گریڈ 13 تا 16: 1400 روپے
- گریڈ 17: 1800 روپے
- گریڈ 18: 2100 روپے
- گریڈ 19: 2500 روپے
- گریڈ 20 اور اس سے اوپر: 4000 روپے
حکومت کا کہنا ہے کہ فنانس بل کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان بنانا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور صوبائی آمدن میں اضافہ کرنا ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ٹیکس تجاویز پر اعتراضات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔