وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مبینہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط کے بعد پاکستان نے ثالثی کے طور پر اس دستاویز کی توثیق کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔
بیان کے مطابق معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں ایران آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے پر آمادہ ہوگا، جبکہ امریکا اپنی بحری پابندیاں اور دباؤ کم کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس پیش رفت کی یاد میں ایک تقریب کی میزبانی کرے گا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔
شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل نے ایک بڑے علاقائی بحران کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
وزیراعظم نے ایرانی قیادت، صدر مسعود پزشکیان اور مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔
بیان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی کاوشوں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
معاہدے کے اہم نکات
ذرائع کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں 14 نکات شامل ہیں جن میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر بعض پابندیوں میں نرمی، جوہری معاملات پر آئندہ مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق امریکی اور ایرانی صدور نے دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 60 روز کے دوران فریقین نئی فوجی تعیناتیوں اور نئی پابندیوں سے گریز کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت ایک ابتدائی فریم ورک ہے جس کے تحت مستقبل میں مزید تکنیکی مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ مستقل معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔