ضلع خیبر ضلع کی تحصیل لنڈی کوتل میں ٹرانسپورٹرز نے ایک بار پھر احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث پاک افغان شاہراہ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو گئی۔ مظاہرین نے افغان پناہ گزینوں اور افغان کڈوال گاڑیوں کو زبردستی روک دیا، جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور آمد و رفت میں مشکلات پیدا ہو گئیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑیاں گزشتہ نو ماہ سے افغانستان میں پھنسی ہوئی ہیں اور انہیں پاکستان واپس لانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد بار حکام سے رابطے کیے گئے اور یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں، تاہم اب تک کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے مطابق 9 جون کو پشاور میں کمشنر دفتر میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا تھا، جس میں کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر خیبر، قبائلی عمائدین اور افغان قونصل خانے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 11 جون سے افغانستان میں پھنسی گاڑیوں کی واپسی کا عمل شروع کر دیا جائے گا، لیکن ان کے بقول آج تک اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
احتجاج کرنے والے ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ افغان حکام گاڑیوں کو پاکستان واپس آنے کی اجازت نہیں دے رہے، جس کے باعث انہیں مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی گاڑیوں کی واپسی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔
دوسری جانب دھرنے کے باعث پاک افغان شاہراہ پر تجارتی اور سفری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ سرحدی علاقوں میں سامان کی ترسیل، مسافروں کی آمد و رفت اور کاروباری سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات جلد تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے، جس سے سرحدی تجارت اور ٹرانسپورٹ نظام مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔