پشاور(وقائع نگار)جماعت اسلامی نے گزشتہ 14برسوں سے صوبے میں برسر اقتدار صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور عوام دشمنی کے حوالے سے پری بجٹ وائٹ پیپر 2027-2026ءجاری کردیا۔جس میں پشاور کے شہریوں کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی کے لئےتین سالہ پیکج کے تحت 650ارب روپے کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پشاور پریس کلب میں حق دو پشاور کو تحریک کے تحت پری بجٹ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کو درپیش مسائل اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے تفصیلی مطالبات پیش کئے گئے۔سیمنار کی صدارت سابق رکن قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان نے کی اس موقع پر حق دو پشاور تحریک کے صدر سابق صوبائی وزیر کاشف اعظم خلیل, سرحدچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر جنید الطاف،سابق صوبائی وزیر حافظ حشمت خان ،جماعت اسلامی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ہدایت اللہ خان, پاکستان بزنس فورم کے صدر خالد گل مہمند،نیشنل لیبر فیڈریشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری سمیع اللہ,شاہکار عزیز,ڈاکٹر دانیال،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شفیق گیانی،م،جماعت اسلامی نائب امیر حمداللہ جان بڈھنی سمیت تاجر رہنماؤں اور معززین شہر نے خطاب کیا۔سیمینار میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، ماہرین اورعوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے پشاور کو درپیش بنیادی مسائل، جن میں انفراسٹرکچر کی بہتری، صاف پانی کی فراہمی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں سہولیات، اور ٹریفک نظام کی اصلاح شامل ہیں، پر تفصیلی روشنی ڈالی۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ بجٹ میں پشاور کے لئے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔مقررین کا کہنا تھا کہ پشاور کے عوام کو ان کا حق دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں "حق دو پشاور کو تحریک”اہلیان پشاور کے حقوق کے حصول کے لئے بھرپور جدو جہد جاری رکھے گی۔سیمینار میں ماہرین اور عوامی نمائندوں نے اس امر پر زور دیا کہ پشاور تجارتی و کاروباری مراکز وسطی ایشیائی تجارت کا گیٹ وےہے اور روزانہ تقریباً 8 سے 12 لاکھ افراد دیگر اضلاع سے پشاور آتے ہیں، جس کی وجہ سے شہر کی آبادی اور وسائل پر شدید دباؤ ہے۔شہری انفراسٹرکچر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ٹریفک کے مسائل اور ایمرجنسی رسپانس میں تاخیر بڑھ رہی ہے۔صاف پانی کی فراہمی محدود ہے۔ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں پر بوجھ بڑھ چکا ہے۔فضائی آلودگی اور ماحولیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔سیمینار کے شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں Peshawar Capital City Development Fund قائم کیا جائے اور ابتدائی طور پر کم از کم 650 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے۔مقررین کا کہنا تھا کہ پشاور کو اس کی اصل حیثیت کے مطابق وسائل فراہم کیے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں، لہٰذا حکومت فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔اس موقع پر حق دو پشاور کے صدر کاشف اعظم خلیل نے پریس کلب پشاور کے جنرل سیکرٹری عالمگیر خان اور چیمبر آف کامرس کے صدر سمیت دیگر معززین کو پشاور کے حقوق کے حوالے سے تیار کردہ وائٹ پیپر کی کاپیاں فراہم کی۔