وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں دفاع، ترقیاتی منصوبوں، سماجی تحفظ، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور توانائی کے شعبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں جبکہ سرکاری ملازمین، پنشنرز اور تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی مختلف مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ اتحادی جماعتوں کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بنیان مرصوص‘‘ میں کامیابی پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہے اور گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، جس کے بعد دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی معترف ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات کی مد میں 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ ترسیلات زر رواں مالی سال میں 41 ارب ڈالر سے بھی زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے اور پنشنرز کے لیے پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لیے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے مختلف انکم سلیبس میں ٹیکس شرح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج ختم کیا جا رہا ہے جبکہ سپر ٹیکس میں بھی نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے سے کم سالانہ فروخت رکھنے والے دکاندار اپنی فروخت کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔ ایسے تاجروں کو متعدد ٹیکس سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے جبکہ برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم از کم ٹیکس کی مجموعی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ میں درآمدی گاڑیوں، بڑی ایس یو ویز اور مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم الیکٹرک موٹرسائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ مراعات برقرار رکھی گئی ہیں۔
قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے شامل ہیں۔ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
کراچی تا چمن این-25 شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے لیے 100 ارب روپے، سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے اور ایم ایل ون منصوبے کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے آٹھ پن بجلی منصوبوں کے لیے 13 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ واپڈا اور نیشنل گرڈ کمپنی اپنے وسائل سے 158 ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔
پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے 43 آبی منصوبوں کے لیے 103 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے اور داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے 54 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ایک لاکھ 50 ہزار کم لاگت رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 10 بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کیے جائیں گے۔
صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں صنعتی ڈیزائننگ اور آٹومیشن مراکز قائم کیے جائیں گے۔
صحت کے شعبے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 25 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں کینسر کے علاج کی سہولیات میں توسیع بھی شامل ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں خواتین کی صحت سے متعلق اشیا اور سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ مانع حمل اشیا کو بھی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس وصولی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے متوقع ہے۔ سود کی ادائیگیوں کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مجموعی جاری اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو معاشی استحکام، دفاعی مضبوطی، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی فلاح کے اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔