آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے معروف مذہبی سکالر اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس واقعے کی تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد اور رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے میں چار دہشتگرد ملوث تھے، جنہوں نے دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر تھانہ اتمانزئی، ضلع چارسدہ کے علاقے میں مولانا محمد ادریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کی۔
واقعے کے بعد تفتیشی ٹیموں نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کر لی ہیں، جن کی بنیاد پر ان کا تعاقب جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے۔
فائرنگ کے نتیجے میں مولانا محمد ادریس اور دو پولیس کانسٹیبلز شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم مولانا محمد ادریس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی شہید ہو گئے، جبکہ زخمی اہلکاروں کو اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ اس سنگین واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو بھی قانون سے فرار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تفتیشی ادارے تمام دستیاب شواہد کی بنیاد پر تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ واقعے کے محرکات اور ذمہ داروں کو سامنے لایا جا سکے۔