جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی امیر مولانا عطاءالرحمن نے پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران مولانا محمد ادریس کے قتل کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پوری جماعت اور ملک کے لیے ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا محمد ادریس کی شہادت کے بعد جماعت کے کارکنان اور علماء میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ پورے صوبے میں سوگ کی فضا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست عوام، خصوصاً علماء، کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
پریس کانفرنس میں عطاءالرحمن نے سوال اٹھایا کہ “ہم کب تک اپنے لوگوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟” انہوں نے کہا کہ اگر حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹ کر دیگر معاملات میں مصروف ہیں، جس کے باعث دہشت گرد عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ علماء ہمیشہ ریاست اور ملک کے خیر خواہ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، متعدد علماء کو شہید کیا جا چکا ہے مگر آج تک کسی ایک واقعے کے اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا، جو کہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے صوبے میں ایک ایسی حکومت مسلط ہے جو امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہی ہے، لیکن اپنی سیاسی ترجیحات میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں عملاً حکومت کی نہیں بلکہ دہشت گردوں کی عملداری نظر آتی ہے۔
عطاءالرحمن نے اعلان کیا کہ اس واقعے کے خلاف کل ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہر ضلع میں بدامنی کے خلاف مظاہرے کرے گی اور اس دوران صوبائی و وفاقی حکومت دونوں کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کی موجودگی میں اس طرح کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں اور حکومت کو فوری طور پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، ورنہ عوامی ردعمل میں مزید شدت آ سکتی ہے۔