پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجازانور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے آئی پی پیز سے سرحد چیمبر آف کامرس کی رٹ پر پاور پرچیز ایجنسی سے کمنٹس جبکہ آئی پی پیز کو نوٹس جاری کردی۔گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سرحد چیمبر آف کامرس کے وکیل شمائل احمد بٹ ایڈووکیٹ جبکہ نیپرا کی جانب سے فاروق آفریدی پیش ہوئے۔ دوران سماعت شمائل بٹ نے عدالت کوبتایا کہ آئی پی پیز سے معاہدے 1994 میں شروع ہوئے اس میں پرائیوٹ سیکٹرز کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ان سے بجلی کی خریداری کا آغاز ہوا تا ہم اس میں چیک اینڈ بیلنس کا فقدان تھا اور پالیسی معاشی طور پر ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ اس معاہدے میں بجلی کی قیمت زیادہ طے کی گئی جس کی وجہ سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالا گیا کیونکہ ان آئی پی پیز نے اپنی پیدوار بڑھا چڑھا کے پیش کرکے حکومت سے زیادہ قیمتیں وصول کی۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ ان آئی پی پیز سے بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ اس سے لوڈشیڈنگ تو کم ہوئی لیکن لوگوں کو معاشی طور پر برباد کیا گیا۔ اسکے ساتھ ساتھ جو معاہدے آئی پی پیز کے ساتھ ہوئے یہ ان کی پاسداری نہیں کررہے، بجلی کی زیادہ قیمتیں اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مٸسلہ ہے۔شمائل بٹ نے عدالت کو بتایا کہ بجلی کی زیادہ قیمتوں سے گھریلوں صارفین، تاجر سمیت ملکی کی معاشی حالت خراب ہوتی جارہی ہے مہنگی بجلی کی وجہ سے عوام بل ادا کرنے سے قاصر ہے جبکہ بڑھتے عوامی دباؤں کی وجہ سے اب حکومت ان مسائل کا حل ڈھونڈ رہی ہے۔ مئی 2019 میں اس حوالے سے ایک کمیٹی قائم کی گئی جسے یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ بجلی کے بڑھتی قیمتوں اور اخراجات اور دیگر امور سے متعلق اور آٸی پی پیز کے پیداوار اور اخراجات سےمتعلق تحقیقات کرے گی اور اسکا جاٸزہ لینے کے بعد کمیٹی ان معاہدوں کی نظرثانی کے لئے سفارشات بنائے گی۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی تھی کہ جو اضافی ادائیگیاں کی گئی ہے جن پانچ آئی پی پیز کو فریق بنایا گیا ہے انھیں منافع کی صورت میں اربوں کے حساب سے زیادہ ادائیگی کی گئی ہے۔ کمیٹی سفارشات کے مطابق، نشاط پاور، نشاط چونیا، اٹک جن، لیبرٹی پاور اور اٹلس پاور کو 39 ارب 20 کروڑ اضافی ادائیگیاں کی گئی۔ جن آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیاں کی گئی ہے ان سے ریکوری کی بھی سفارش شامل تھی۔ جنہوں نے جان بوجھ کر بے قاعدگیاں کی اور حقائق چھپائے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کمیٹی رپورٹ کے مطابق واپڈا ریکارڈ میں 100 آئی پی پیز 25 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کررہی ہے۔اس میں قدرتی طریقوں کے ساتھ ساتھ پٹرول، گیس اور کوئلہ سے بجلی پیدوار شامل ہے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ آئی پی پیز معاہدوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گٸ اور لہذا عدالت حکم دے کہ معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور صرف ان آئی پی پیز کو رقم کی ادائیگی کی جائے جو بجلی پیدا کرتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ رٹ عدالت حکومت کو ہدایت جاری کریں کہ آئی پی پیز کا فارنزک آڈٹ کیا جائے، سینٹ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جن آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم ہورہے ہیں ان کی تجدید نہ کی جائے۔ فریقین کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ معاشی میرٹ آرڈر سے انحراف نہ کریں۔ حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدوں سے روکا جائے، اور اگر ضروری ہے تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جو جتنی بجلی پیدا کرتی ہے اس کو اس حساب سے ادائیگی کی جائے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جو جواب جمع کیا گیا ہے اس میں کوئی تفصیل نہیں ہے لہذا ضروری ہے کہ متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب مانگا جائے کیونکہ فائل پر جواب میں صرف نوٹیفیکشن لگائے گئے ہیں۔ فاضل بنچ نے پاور پرچیز ایجنسی سے جواب طلب کرلیا جبکہ تمام آئی پی پیز کو نوٹس جاری کر دیا۔