ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج پشاورعمران اللہ خان نے صوبے میں اپنی نوعیت کے پہلے کیس میں خاتون پر مبینہ جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت دینے کےخلاف گھریلو تشدد (پری وینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2021 کے تحت دائر پٹیشن پر متاثرہ خاتون کے شوہر اور دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد کردیا ۔دوران سماعت خاتون مسماة(اے)کے وکیل حافظ زین رشید ایڈوکیٹ نے بتایاکہ انکی موکلہ نے حمزہ الہی سے اپریل 2025میں شادی کی تاہم جہیز و دیگر گھریلومسائل کی بناءپر شوہر اور گھر کے دیگر افراد نہ صرف اسے دھمکیاں وہراساں کرتے رہے بلکہ شدید تشدد کابھی نشانہ بنایا ۔ ان مظالم کیخلاف خاتون نے درخواست دی تاکہ شوہر ودیگرملزموں کیخلاف گھریلو تشدد روک تھام کے قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ واضح رہے کہ مذکورہ فوجداری قانون کے تحت جرم کی سزا1سال سے 5سال تک قید اور جرمانہ بھی عائد ہوتا ہے۔ سیشن کورٹ نے گزشتہ سماعت پر یونیورسٹی ٹاون پولیس کو احکامات دیئے کہ وہ کیس میں نامزد متاثرہ خاتون کے شوہر،سسر، ساس و نند کیخلاف گھریلو تشدد کے کیس میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی۔ دوران سماعت ملزم ،اس کا وکیل اور پراسیکیوٹر بھی عدالت میں پیش ہوئے اورملزم نے اقبال جرم سے انکار کیا جس پر اس کااوردیگر ملزموں کا ٹرائل شروع کردیا گیا اور متاثرہ خاتون کو گواہوں کی فہرست پیش کرنےکی ہدایت کی گئی ۔عدالت نے ملزم کو 90ہزار2نفری ضمانت دیتے ہوئے مزید سماعت 13اپریل تک ملتوی کردی