اپیل میں ٹیچرز اینڈ فیکلٹی ، سپروائزر، تمام ہسپتالوں سے احتجاج کی حمایت اور یکجہتی کی درخواست
خیبر پختونخوا کے ٹرینی میڈیکل آفیسرز اور ہائوس آفیسرز کی جانب سے 30فیصد الائونس اضافے کے مطالبے پر احتجاج دو ہفتے سے جاری ہے جبکہ صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں الیکٹو سروسز کا بائیکاٹ بھی برقرار ہے
آل کے پی کے ٹی ایم اوز اینڈ ہائوس آفیسرز کی کور کمیٹی نے اتوار کے روز جاری اپیل میں ٹیچرز اینڈ فیکلٹی ایسوسی ایشن، سی پی ایس پی سپروائزرز، سینئر کنسلٹنٹس اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن کے تمام ہسپتالوں سے احتجاج کی حمایت اور نوجوان ڈاکٹروں کے ساتھ یکجہتی کی درخواست کی ہے
کور کمیٹی کے مطابق 30 فیصد وظیفہ میں اضافہ نوجوان ڈاکٹروں کا بنیادی مطالبہ ہے جس کا مقصد مہنگائی اور دیگر سرکاری کیڈرز میں ہونے والے تنخواہوں کے اضافے کے تناظر میں ان کے معاوضے میں بھی مناسب ایڈجسٹمنٹ کرنا ہے
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بار بار نمائندگی، انتظامیہ سے مذاکرات اور پرامن احتجاج کے باوجود مطالبے پر تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی جس کے باعث الیکٹو سروسز کا بائیکاٹ جاری رکھا گیا ہے
بائیکاٹ میں او پی ڈیز، الیکٹو آپریشن تھیٹر کی فہرست کے مطابق ڈیوٹیاں اور معمول کے وارڈ رانڈز شامل ہیں تاہم ڈاکٹروں کے مطابق ایمرجنسی، کیجولٹی، انتہائی نگہداشت کے یونٹس اور زندگی بچانے والی تمام اہم طبی خدمات معمول کے مطابق جاری ہیں
کور کمیٹی نے سینئر فیکلٹی، سی پی ایس پی سپروائزرز اور کنسلٹنٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ اخلاقی اور ادارہ جاتی یکجہتی کا اظہار کریں ۔