انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ سوات کے علاقے کبل پولیس اسٹیشن پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ملوث خودکش حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ واقعے کی جامع تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے گی۔
سوات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کو پہلے ہی ممکنہ خطرات سے متعلق اطلاعات موصول تھیں، جس کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش حملہ آور کو مرکزی گیٹ پر ہی روک لیا، جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے ایک بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا گیا۔
ذوالفقار حمید نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کبل دھماکے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کو سرکاری شہداء پیکج فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔
آئی جی نے مزید کہا کہ دہشت گرد مسلسل اپنی حکمتِ عملی اور تنظیم تبدیل کرتے رہتے ہیں، تاہم سیکیورٹی ادارے ان کا مسلسل تعاقب کر رہے ہیں اور انہیں دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبے میں ایک اور ممکنہ خودکش حملہ آور کی موجودگی سے متعلق بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن پر تحقیقات جاری ہیں۔ آئی جی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری اجتماعات سے گریز کریں۔