پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 13 سال سے حکومت آپ لوگوں کی ہے، آپ نے ان 13 سال میں کیا کیا؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنوبی اضلاع کے عوام مسلسل مشکلات اور بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے لوگ آگ میں جل رہے ہیں، لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود کریمنل جسٹس سسٹم سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ گزشتہ روز سیاسی رہنما خود کو مظلوم قرار دے رہے تھے، جبکہ عدالت نے صرف ایک دن میں 246 مقدمات میں ضمانتیں منظور کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 90 سے زائد مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں اور عدالت نے ہمیشہ قانون کے مطابق ریلیف فراہم کیا ہے۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ صوبائک حکومت نے گزشتہ 13 سال میں کیا گیا، حکومت کتنے سرکاری اہلکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکی؟
وزیر قانون کی عدم موجودگی پر برہمی
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ مینا خان آفریدی کو بیرون ملک ایک تعلیمی پیپر کے سلسلے میں جانا ہے، لہٰذا ان کا مقدمہ جلد سنا جائے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ مینا خان جلدی جائیں اور اپنا پیپر دے کر واپس آجائیں، بعد ازاں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم اور محکمہ داخلہ کے مشیر عدالت میں پیش ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے ان کی غیر موجودگی پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کے تقریباً 5 کروڑ عوام کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر صورتحال تشویشناک ہے، انہوں نے کہا کہ 100 ملزمان میں سے صرف 6 کو سزا ملتی ہے، جو انتہائی کم شرح ہے، اس کی بنیادی وجہ کمزور تفتیش اور ناقص پراسیکیوشن ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ 2246 سیاسی شخصیات کو ہائیکورٹ سے ضمانتیں ملیں، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی عدالت نے ریلیف دیا،
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ عدلیہ کا ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم ہمارے راستے میں مشکلات پیدا نہ کریں، بعدازاں سماعت مکمل ہونے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔