پنجاب سے آنے والی گندم، آٹا اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل اٹک کے راستوں سے جڑی، منڈیوں اور قیمتوں پر دبا بڑھ سکتا ہے
پشاور(سپیشل رپورٹر)27ستمبر کے احتجاج سے قبل اسلام آباد اور خیبر پختونخوا سے آنے والے اہم راستوں پر سکیورٹی انتظامات سخت کئے جا رہے ہیں
اٹک کے چچ انٹرچینج، ہارون پل اور غازی بروتھا پل سمیت اہم گزرگاہوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے جبکہ بعض مقامات پر کنٹینرز منتقل کئے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں یہ راستے صرف مسافروں کی آمدورفت کیلئے اہم نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی خوراک اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل کیلئے بھی اہم رابطے ہیں
خیبر پختونخوا کی غذائی ضروریات میں گندم کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے صوبائی حکومت کے مطابق 2026 میں صوبے کی سالانہ گندم کی ضرورت 54لاکھ 36ہزار 537میٹرک ٹن ہے جبکہ مقامی پیداوار 16لاکھ 32ہزار میٹرک ٹن رہی
اس طرح سالانہ ضرورت پوری کرنے کیلئے38لاکھ 4ہزار 537میٹرک ٹن گندم کی کمی رہتی ہے جو دیگر صوبوں، خصوصا پنجاب سے پوری کی جاتی ہے یعنی اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان اہم شاہراہوں پر طویل بندش یا مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت میں رکائوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف ٹریفک پر نہیں بلکہ آٹے اور گندم کی سپلائی پر بھی پڑ سکتا ہے
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت گندم اور آٹے کی کوئی قلت نہیں اور پشاور کے سرکاری گودام میں 16ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے جبکہ مزید 4ہزار میٹرک ٹن راستے میں ہے
دوسری طرف سبزیاں، پھل، دودھ اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مختلف اضلاع اور صوبوں سے روزانہ منڈیوں تک پہنچتی ہیں ان میں سے جلد خراب ہونے والی اشیا کیلئے چند دن کی مسلسل رکائوٹ بھی تاجروں اور صارفین دونوں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے جبکہ مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور اضافی سفری وقت ترسیل کے اخراجات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں
اصل خدشہ اس وقت پیدا ہوگا جب بندش چند گھنٹوں کے بجائے مسلسل کئی دن جاری رہے ایسی صورت میں منڈیوں میں رسد کم ہونے، بعض اشیا کی قیمتوں پر دبا بڑھنے اور شہریوں کو روزمرہ ضروریات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔