خیبرپختونخوا اسمبلی نے تجاوزات کے خاتمے اور صوبے میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بانوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے احساس ریڑھی بان لائیولی ہڈ پروٹیکشن بل 2026 منظور کرلیا۔
بل کی منظوری کے لیے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے تحریک پیش کی۔ بل کے تحت اسٹریٹ وینڈرز کی رجسٹریشن، لائسنسنگ، وینڈنگ زونز، حقوق اور اپیل کا جامع نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
قانون کے مطابق 14 سال یا اس سے زائد عمر کا شخص اسٹریٹ وینڈر کے طور پر رجسٹر ہوسکے گا، جبکہ ہر اسٹریٹ وینڈر کے لیے رجسٹریشن اور وینڈنگ سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔ رجسٹرڈ وینڈرز کو کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل وینڈنگ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جو دو سال کے لیے مثر اور قابل تجدید ہوگا۔
غلط معلومات فراہم کرنے یا شرائط کی خلاف ورزی پر وینڈنگ سرٹیفکیٹ معطل یا منسوخ کیا جاسکے گا، تاہم متاثرہ وینڈر کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
بل کے تحت رجسٹرڈ وینڈرز کو بلاجواز ہراسانی اور بے دخلی سے قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ متبادل جگہ فراہم کیے بغیر کسی رجسٹرڈ وینڈر کو بے دخل نہیں کیا جاسکے گا جبکہ بے دخلی سے قبل کم از کم 15 روز کا تحریری نوٹس دینا لازمی ہوگا۔
بغیر وینڈنگ سرٹیفکیٹ کاروبار کرنا قابلِ سزا جرم ہوگا۔ وینڈنگ سرٹیفکیٹ فروخت یا منتقل کرنے پر 3 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا، جبکہ مسلسل خلاف ورزی یا مزاحمت کی صورت میں 20 ہزار روپے جرمانہ، ایک ماہ قید یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔
قانون کے تحت غیر قانونی تجاوزات، صفائی کی خلاف ورزی اور ممنوعہ اشیا کی فروخت کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ وینڈرز کو ہراساں کرنے والے سرکاری اہلکار کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی، جبکہ کسی دکاندار یا شہری کی جانب سے وینڈر کو ہراساں کرنے پر 20 ہزار روپے جرمانہ یا ایک ماہ قید کی سزا ہوسکے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بان سالانہ 380 ارب روپے سے زیادہ کا کاروبار کرتے ہیں، جبکہ اسٹریٹ وینڈنگ کا شعبہ سالانہ تقریبا 130 ارب روپے قومی معیشت میں حصہ ڈالتا ہے۔
بلدیاتی حکام کے مطابق اس شعبے کی مثر ریگولیشن سے سالانہ 2.5 سے 5 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہوسکتی ہے۔
صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ قانون مقامی حکومتوں کے لیے اسٹریٹ وینڈرز سے متعلق پہلا جامع قانونی فریم ورک قرار دیا جارہا ہے، جس کا مقصد ایک جانب تجاوزات اور شہری مسائل پر قابو پانا اور دوسری جانب ریڑھی بانوں کے روزگار اور بنیادی حقوق کا قانونی تحفظ یقینی بنانا ہے