خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ کے تحت علاج کی سہولیات کو درپیش بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جہاں صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی نے نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت بڑے سرکاری ہسپتالوں کے چار ارب روپے سے زائد کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے، جس کے باعث ان اداروں پر مالی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ دیگر ہسپتال بھی کروڑوں روپے کے بقایاجات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
مزید برآں، نگران دور حکومت سے لے کر اب تک مجموعی واجبات 12 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو کہ صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ کسی ہسپتال نے باضابطہ طور پر علاج بند کرنے کا اعلان نہیں کیا، تاہم عملی طور پر کئی بڑے ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے تحت علاج کی سہولیات محدود کر دی گئی ہیں، جس سے خصوصاً غریب مریض شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب صحت سہولت پروگرام کے سربراہ کے مطابق محکمہ خزانہ کی جانب سے چار ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، جو آئندہ ہفتے تک متعلقہ ہسپتالوں کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ادارے نے تحریری طور پر علاج بند کرنے کی اطلاع نہیں دی، تاہم وسائل کی کمی کے باعث علاج کی رفتار ضرور متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت فنڈز کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور صحت عامہ کے نظام پر اس کے منفی اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔