• اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے
  • اخبار
  • 0912584506
  • 93008563368+
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سیاست
  • بین الاقوامی
  • علاقائی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
  • آئین اخبار
خیبرپختونخوا

.مولانا محمد ادریس کی شہادت,ملک بھر میں کل احتجاج کا اعلان، تمام اضلاع میں مظاہروں کی کال

irshad
Share
SHARE

جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی امیر مولانا عطاءالرحمن نے پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران مولانا محمد ادریس کے قتل کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پوری جماعت اور ملک کے لیے ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا محمد ادریس کی شہادت کے بعد جماعت کے کارکنان اور علماء میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ پورے صوبے میں سوگ کی فضا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست عوام، خصوصاً علماء، کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

پریس کانفرنس میں عطاءالرحمن نے سوال اٹھایا کہ “ہم کب تک اپنے لوگوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟” انہوں نے کہا کہ اگر حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹ کر دیگر معاملات میں مصروف ہیں، جس کے باعث دہشت گرد عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ علماء ہمیشہ ریاست اور ملک کے خیر خواہ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، متعدد علماء کو شہید کیا جا چکا ہے مگر آج تک کسی ایک واقعے کے اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا، جو کہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے صوبے میں ایک ایسی حکومت مسلط ہے جو امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہی ہے، لیکن اپنی سیاسی ترجیحات میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں عملاً حکومت کی نہیں بلکہ دہشت گردوں کی عملداری نظر آتی ہے۔

عطاءالرحمن نے اعلان کیا کہ اس واقعے کے خلاف کل ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہر ضلع میں بدامنی کے خلاف مظاہرے کرے گی اور اس دوران صوبائی و وفاقی حکومت دونوں کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کی موجودگی میں اس طرح کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں اور حکومت کو فوری طور پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، ورنہ عوامی ردعمل میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا محکمہ خزانہ سے بجٹ تفصیلات طلب، تاخیر پر تشویش کا اظہار
ایران–امریکا مذاکرات کے باعث پی ٹی آئی کا لیاقت باغ راولپنڈی جلسہ ملتوی
بنوں میں پولیس گاڑی پرحملہ ،اے ایس آئی شہید ،2دہشت گرد ہلاک
خیبرپختونخوا کا مستقبل تابناک ہے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کی قومی اور عالمی سطح پر کارکردگی قابل فخر ہے، مشیر کھیل
Share This Article
Facebook Email Print

Follow US

Find US on Social Medias
1.3kLike
XFollow
YoutubeSubscribe
TelegramFollow
تازہ ترین
پاکستان

پاکستان سے عازمین حج کی پہلی پرواز 18 اپریل کو سعودی عرب پہنچے گی

خیبرپختونخوا کا مستقبل تابناک ہے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
چارسدہ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج، چارسدہ نوشہرہ روڈ بند
صوبائی حکومت کا کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی سفارش
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز

زمرے

  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سیاست
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل

ہمارے بارے میں

روزنامہ آئین ایک باوثوق، مستند اور اہم خبروں پر مبنی کثیر الاشاعت اخبار ہے جو خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ یہ اخبار آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) سے باقاعدہ طور پر تصدیق شدہ ہے اور پشاور و اسلام آباد سے بیک وقت بلاتعطل شائع ہو رہا ہے،

اہم روابط

  • اخبار
  • اشتہار کے لیے رابطہ
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کیجئے

سماجی رابطے

  • ہمارا فیس بک پیج
  • ہماری ٹویٹر پروفائل
  • ہماری انسٹاگرام پروفائل

سماجی رابطے

  • پاکستان
  • خیبرپختونخوا
  • بین الاقوامی
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت
  • کاروبار
  • کھیل
Copyright © 2026, Daily Aeen. Designed & Developed by Pixel Pro
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?