پاکستان تحریک انصاف کی کور اور سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ کی ناکامی، قیادت کے درمیان رابطوں کے فقدان اور پیشگی منصوبہ بندی نہ ہونے کے معاملے پر سخت تحفظات سامنے آئے، جبکہ متعدد رہنماؤں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے۔
اجلاس کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ کے لیے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور اہم فیصلوں سے متعلق قیادت کو اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا۔
اجلاس میں سلمان اکرم راجہ سے منسوب مؤقف کے مطابق جب بھی سہیل آفریدی سے لانگ مارچ کے منصوبے کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ تفصیلات فراہم نہیں کرتے تھے۔
دیگر رہنماؤں نے بھی شکایت کی کہ لکی مروت سے مردان تک لانگ مارچ کی حکمت عملی سے انہیں بے خبر رکھا گیا۔
اجلاس میں لانگ مارچ کی ناکامی کی ذمہ داری کے معاملے پر بھی بحث ہوئی اور متعدد شرکا نے سہیل آفریدی کی منصوبہ بندی پر اعتراضات اٹھائے۔
دوسری جانب اجلاس میں قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ تاہم پارٹی موقف کے مطابق محمود خان اچکزئی بانی چیئرمین عمران خان کے نامزد کردہ ہیں، اس لیے انہیں اس عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی اور اس مقصد کے لیے بیرسٹر محمد علی سیف سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بعض رہنماؤں نے تجویز دی کہ بانی چیئرمین سے ملاقات کی ذمہ داری بیرسٹر سیف کو سونپی جائے۔
اجلاس میں سامنے آنے والے اختلافات سے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد پارٹی کے اندر حکمت عملی، رابطہ کاری اور آئندہ سیاسی فیصلوں سے متعلق جاری بحث کی نشاندہی ہوتی ہے۔