چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 14 ستمبر کے حکم کی روشنی میں صوبے کے تمام سرکاری افسران و اہلکاروں کو اسلام آباد کی طرف مارچ، جلوس یا ریلی میں سرکاری وسائل استعمال نہ کرنے کی ہدایت کردی۔
چیف سیکرٹری کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کوئی سرکاری اہلکار ایسے کسی حکم پر عمل نہیں کرے گا جس کے تحت اسے اسلام آباد کی طرف جانے والے مارچ، جلوس یا ریلی کی معاونت یا سہولت کاری پر مجبور کیا جائے جبکہ کسی اہلکار کو اس حوالے سے مجبور کیے جانے کی صورت میں چیف سیکرٹری یا آئی جی پولیس کو فوری اطلاع دینا ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری وسائل، عوامی فنڈز، سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر آلات کسی مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت کرنے والوں کی مدد یا سہولت کاری کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے اور کسی سرکاری ملازم کو بھی ایسے کسی مارچ میں شرکت پر مجبور، آمادہ یا ترغیب نہیں دی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق ایسے مارچ، ریلی یا جلوس میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی جس کا مقصد یا نتیجہ اسلام آباد میں آزادانہ نقل و حرکت، تجارت، کاروبار، تعلیمی اداروں، طبی سہولیات یا جائیدادوں کے پرامن اور قانونی استعمال میں رکاوٹ بننا ہو۔
چیف سیکرٹری نے تمام انتظامی سیکرٹریز، محکموں کے سربراہان، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران کو عدالتی احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے اور ماتحت اہلکاروں کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خلاف ورزی کرنے والے سرکاری اہلکار کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔