خیبرپختونخوا حکومت نے جعلی، ملاوٹ شدہ، غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ادویات کی فروخت کی روک تھام اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف سزائیں مزید سخت کرنے کے لیے خیبرپختونخوا ڈرگ ترمیمی بل 2026 صوبائی اسمبلی میں متعارف کرا دیا۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے بل ایوان میں پیش کیا، جس پر اسپیکر نے مزید غور و خوض اور مشاورت کے لیے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے 15 روز کے اندر رپورٹ طلب کرلی۔
مجوزہ بل کے تحت جعلی، ملاوٹ شدہ، غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ادویات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ادویات فروخت کرنے پر 10 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
بل میں جعلی اور ملاوٹ شدہ ادویات فروخت کرنے پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز ہے، جبکہ ڈرگ انسپکٹر کے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے پر ایک سال تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق ڈرگ ایکٹ کے تین رولز کی خلاف ورزی پر 5 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ غی
ر رجسٹرڈ دوا کے خلاف سزا سنائے جانے کے باوجود اس کی فروخت جاری رکھنے پر 2 کروڑ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح غلط نام سے دوا فروخت کرنے پر 10 سال قید اور ڈیڑھ کروڑ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔بل کے تحت کوالٹی کنٹرول بورڈ کو کسی بھی دوا کے معیار اور اجزا کے تجزیے کے لیے اسے بیرونِ ملک کسی مستند لیبارٹری میں ٹیسٹ کرانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
مجوزہ ترمیمی بل میں خصوصی ڈرگ چیئرمین کا عہدہ بھی تجویز کیا گیا ہے، جس کا مرتبہ ہائی کورٹ کے جج کے برابر ہوگا