وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کے دو بنیادی مطالبات ہیں، پہلا یہ کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے مقدمات فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ان کے وکلاء، ڈاکٹروں، اہل خانہ اور پارٹی رہنماوں کی ملاقاتیں فوری طور پر بحال کی جائیں۔ ہمارا کوئی مطالبہ غیر آئینی اور غیر قانونی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف ملا تو عمران خان تیس منٹ میں رہا ہو سکتے ہیں، لیکن اگر انصاف نہ ملا تو 27 ستمبر کو قوم اسلام آباد کا رخ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انصاف چاہیے، بھیک نہیں چاہیے، آپ کو انصاف دینا پڑے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب عمران خان واپس آئیں گے تو ملک میں امن بھی آئے گا، ترقی بھی آئے گی اور خوشحالی بھی آئے گی۔وزیراعلیٰ نے جلسے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے آنے والے عوام کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اغوا کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوام عمران خان کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عمران خان آج بھی پاکستان کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ انہوں نے جلسے کے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے عمران خان سے اپنی محبت کا بھرپور اظہار کیا ہے اور میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کی شدید گرمی میں اس عوامی اجتماع کو دیکھ کر سوچیں کہ عمران خان گزشتہ تین برس سے جیل میں یہ تمام سختیاں کس طرح برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان آسائشوں کی زندگی گزار سکتے تھے مگر انہوں نے پاکستان کی خاطر قید کی صعوبتیں قبول کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کبھی بیرونی طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق اور اسلاموفوبیا کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔انہوں نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ جب عمران خان کی بہنیں ملاقات کے لیے جاتی ہیں تو ان پر زہریلا پانی پھینکا جاتا ہے عمران خان کا پورا خاندان ہمارے لیے تکلیفیں برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ عمران خان کو اندرونی غداروں نے بیرونی سازش کے تحت اس لیے اقتدار سے ہٹایا کیونکہ انہوں نے غلامی کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود عمران خان کے دور میں ملکی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، جبکہ آج تمام دعووں کے باوجود ملکی شرح نمو تقریباً 3 فیصد ہے۔ 9 اپریل 2022 کو ریجیم چینج کے بعد ملک پر چوروں اور لٹیروں کو مسلط کیے جانے سے پاکستان ترقی کے بجائے تنزلی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ آئی ایم ایف نے رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی مگر پوچھنے والا کوئی نہیں۔ جس رہنما نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی، آج وہی جیل میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اندرونی غداروں اور بیرونی سازش کے نتیجے میں ہونے والی ریجیم چینج کے بعد دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا ایک بار پھر بدامنی اور خونریزی کا شکار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج پشتون، بلوچ، کشمیری اور پنجابی سب ظلم اور بدامنی کا شکار ہیں۔ موجودہ نظام کو فسطائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خونی درندے بن چکے ہیں اور عوام کی جان و مال کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان کبھی جیٹ طیاروں اور کبھی ڈرون حملوں سے شہید ہو رہے ہیں، جبکہ عمران خان کے دور، 2018 سے 2022 تک، ملک میں امن قائم تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان جیل میں اس انتظار میں ہیں کہ ان کی قوم ان کا مقدمہ لڑے گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملک پر مسلط قبضہ مافیا بند کمروں میں فیصلے کر رہا ہے اور بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے اجرتی قاتل بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے ایران، افغانستان اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند خاندان مسلسل پاکستان کو کھا رہے ہیں اور اب ان کے خلاف نکلنے کا وقت آ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ان ججوں کی آواز بننا ہے جو انصاف نہیں کر پا رہے، اس میڈیا کا بازو بننا ہے جو سچ نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے، صحافی اور ججز آج عوام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ادارے مفلوج ہوں اور عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو عوام کے پاس آخر کون سا راستہ بچتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب ہمیں اپنا مقدمہ سڑکوں پر لڑنا ہے، ظلم اور ظالم کے خلاف کھڑا ہونا ہے اور محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد کا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ آپ کو کاکروچ کہتے ہیں مگر میں آپ کو علامہ اقبال کا شاہین کہتا ہوں، ہمیں انصاف خود لینا ہے۔انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا آپ گولیوں، ٹینکوں اور راکٹوں سے ڈرتے ہیں؟ اگر نہیں تو میں آپ کی قیادت کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب انہی کرپٹ خاندانوں کی نئی نسل کو ملک پر مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، لیکن ہم موروثی سیاست اور خاندانوں کی حکمرانی قبول نہیں کریں گے۔
<><><><><><>