پشاورہائیکورٹ نے ضلع سوات کی عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے کے پاداش میں کبل بار کے رکن کو جاری توہین نوٹس کا کیس واپس لے لیا اور اس کا لائسنس بحال کرتے ہوئے اسے تنبیہ کی کہ اس قسم کے منفی پروپیگنڈہ سے باز رہیں۔توہین عدالت درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء یوٹیوب پر بیٹھ گئے ہیں کچھ وکلاء فیس بک کے لائیکس کے لیے سوشل میڈیا پر تشہیر کر رہے ہیں کیا اب وکیل کا کام صرف سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنا رہ گیا ہے؟ پہلے وکلاء میں کافی ڈسپلن ہوتا تھا، ایسی چیزوں کا وقت نہیں ہوتا تھا، توہین عدالت کی درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور پر مشتمل بنچ نے کی۔ سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر امین الرحمان ایڈوکیٹ اور کے پی بار کونسل کے رکن احمد فاروق خٹک پیش ہوئے ۔امین الرحمان ایڈوکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ وکیل نے ججز کے خلاف ویڈیو میں نامناسب بیان دیا تھا مگر اب اس نے عدالت میں غیر مشروط معافی نامہ جمع کرا دیا جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وکلاء اب یوٹیوب پر بیٹھ گئے ہیں ججز کے خلاف کوئی ثبوت دیں، اگر کارروائی نہ ہو تو پھر ویڈیوز بنائیں ہم تو بار بار کہہ رہے ہیں کہ جو کوئی عدالتوں میں کرپشن کا مرتکب ہے ہمیں نام بتا دیں ہماری اس میں زیرو ٹالرنس پالیسی ہے درجنوں افسران اور عدالت کے عملے کو فارغ کیا گیا ہے مگر کچھ وکلاء فیس بک لائکس کے لیے سوشل میڈیا پر تشہیر کر رہے ہیں اور ہم کو نام نہیں بتا رہے ہیں گزشتہ روز بھی سی این جی بندش کے خلاف درخواست اسی بنیاد پر خارج کی گئی کیوں کہ وکیل نے سوشل میڈیا پر عوام کو سماعت میں شرکت کی دعوت دی کیا اب وکیل کا کام صرف سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنا رہ گیا ہے؟پہلے وکلاء میں کافی ڈسپلن ہوتا تھا، ایسی چیزوں کا وقت نہیں ہوتا تھا،عدالت نے غیر مشروط معافی منظور کرلی اور آئندہ کیلئے اسے متنبہ کرتے ہوئے لائسنس بحال کر دیا۔