خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات، استحقاق اور مراعات سے متعلق نئے قانون کے مسودے میں ارکان صوبائی اسمبلی کے لیے متعدد نئی مراعات، قانونی تحفظات اور خصوصی اختیارات شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ خیبرپختونخوا اسمبلی پاورز، امیونٹیز اینڈ پریویلجز ایکٹ 2026 کے تحت ارکان اسمبلی کو آٹھ اسلحہ لائسنس، ٹول ٹیکس سے استثنیٰ، سرکاری پاسپورٹ، خصوصی سکیورٹی، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام اور گرفتاری سے متعلق خصوصی تحفظ فراہم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
مسودے کے مطابق کسی رکن اسمبلی کو گرفتار کرنے یا حراست میں لینے سے قبل سپیکر کی اجازت ضروری ہوگی۔ سپیکر کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ متعلقہ حکام سے گرفتاری یا حراست سے متعلق رپورٹ طلب کریں اور معاملے کی جانچ پڑتال کرائیں۔ بعض حالات میں زیرحراست رکن کو اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے رہائی بھی دی جا سکے گی۔
مجوزہ قانون میں ہر رکن اسمبلی کو کم از کم بی کیٹیگری سکیورٹی فراہم کرنے جبکہ خطرات کی صورت میں اے کیٹیگری سکیورٹی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو سرکاری پاسپورٹ، اسمبلی شناختی کارڈ اور ملک بھر کے وی آئی پی ایئرپورٹ لاؤنجز استعمال کرنے کی سہولت دینے کی شق بھی شامل ہے۔
مسودے کے مطابق ارکان اسمبلی کو مجموعی طور پر آٹھ غیر ممنوعہ بور اسلحہ لائسنس دینے کی تجویز رکھی گئی ہے، جن میں چار مفت اور چار فیس کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ارکان کو تمام ٹول پلازوں پر ٹول ٹیکس سے استثنیٰ اور سرکٹ ہاؤسز، ریسٹ ہاؤسز اور ڈاک بنگلوں میں مفت قیام کی سہولت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
قانونی مسودے میں ارکان اسمبلی کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دینے، خصوصی ممبر اسمبلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے اور کالے شیشوں والی گاڑیاں رکھنے کی اجازت دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
مجوزہ قانون کے تحت اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ اسمبلی یا کمیٹی کسی بھی شخص کو طلب کرنے، دستاویزات اور ریکارڈ طلب کرنے جبکہ عدم تعاون کی صورت میں وارنٹ جاری کرنے کا اختیار رکھ سکے گی۔
مسودے میں میڈیا سے متعلق بھی بعض شقیں شامل کی گئی ہیں۔ اسمبلی کارروائی کی غلط یا گمراہ کن رپورٹنگ، سپیکر کی پابندی کے باوجود کارروائی شائع کرنا اور کمیٹی رپورٹس پیشی سے قبل لیک کرنا استحقاق کی خلاف ورزی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق سپیکر کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی صحافی یا میڈیا نمائندے کا اسمبلی میں داخلہ محدود یا منسوخ کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق اسمبلی استحقاق کی خلاف ورزی کو باقاعدہ جرم قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ ایسے معاملات کی سماعت کے لیے جوڈیشل کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم ان تجاویز پر عملدرآمد قانون کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔