ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سطحی حکام پر مشتمل وفد بھی موجود ہے۔ یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد روانگی سے قبل اپنے بیان میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
صدر پزشکیان نے اپنے دورے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں مختلف معاہدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ طے شدہ شقوں پر بین الاقوامی قوانین اور باہمی اتفاقِ رائے کے مطابق پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر عملدرآمد سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ خطے کو درپیش متعدد چیلنجز میں بھی کمی آئے گی۔
ایرانی صدر نے خطے کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پوری مسلم دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حملوں اور جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی اتحاد، مشاورت اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صدر پزشکیان اپنے دورے کے دوران صدر مملکت، وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ثقافتی روابط، سلامتی و دفاع، بارڈر مینجمنٹ اور علاقائی امن و استحکام سمیت متعدد اہم امور زیرِ بحث آئیں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت علاقائی اور عالمی سطح پر پیش آنے والی اہم پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کرے گی۔ مذاکرات میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط کے فروغ اور مشترکہ ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
دورے کے دوران ماضی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ مختلف شعبوں میں نئے تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
سیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ علاقائی تبدیلیوں اور سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا بطور صدر پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے، جو دونوں ہمسایہ اور برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی روابط کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔