پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔
بجٹ اجلاس کے آغاز سے ہی اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں داخل ہوتے ہی "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” کے نعرے لگائے اور عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی احتجاج میں مزید شدت آگئی اور اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس اور وزیراعلیٰ پنجاب کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے۔
اپوزیشن نے "جعلی بجٹ نامنظور، نامنظور” کے نعرے بھی لگائے۔ حکومت کی جانب سے پیپر لیس اجلاس کے انعقاد کے باوجود اپوزیشن ارکان کاغذات ساتھ لائے تھے اور احتجاجاً انہیں پھاڑ کر ایوان میں اچھال دیا، جس سے اجلاس کا ماحول خاصا ہنگامہ خیز رہا۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 35واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مالیاتی اہداف، ترقیاتی منصوبوں، محصولات اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن سے متعلق تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی منظوری دی۔ اسی طرح پہلی مرتبہ بورڈ آف ریونیو کے محصولات کے اہداف میں 25 فیصد جبکہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے اہداف میں 77 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی۔ مجموعی طور پر پنجاب کے اپنے ریونیو اہداف میں 42.7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ایک خصوصی قرارداد بھی منظور کی گئی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں ترقیاتی بجٹ 1240 ارب روپے منظور کیا گیا تھا، جبکہ رواں سال ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 752 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ میں 488 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔ گزشتہ سال 5755 ترقیاتی منصوبے بجٹ کا حصہ تھے جبکہ رواں سال ان کی تعداد کم ہو کر 3560 رہ گئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 1662 نئے منصوبے شامل کیے گئے تھے جبکہ رواں سال صرف 420 نئے منصوبوں کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ اجلاس کے دوران شدید احتجاج اور سیاسی کشیدگی کے باوجود پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے مالیاتی اہداف اور ترقیاتی ترجیحات پر مشتمل بجٹ ایوان میں پیش کر دیا۔