گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور اب تک موصول ہونے والے نتائج میں حکومت سازی کے لیے مضبوط پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔
اب تک 24 میں سے 20 نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، جبکہ 6 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) 3 نشستیں جیت سکی ہے جبکہ مجلس وحدت المسلمین ایک نشست اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
پیپلز پارٹی نے گلگت، نگر، اسکردو، کھرمنگ، شگر اور غذر کے اہم حلقوں میں کامیابیاں حاصل کرکے سیاسی برتری حاصل کر لی ہے۔ جی بی اے 1 گلگت 1 میں پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10,594 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ نگر اور اسکردو کے متعدد حلقوں میں بھی پارٹی امیدواروں نے فتح حاصل کی۔
دوسری جانب آزاد امیدواروں نے بھی غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ جی بی اے 3 گلگت 3 میں سید سہیل عباس، جی بی اے 6 ہنزہ میں نیک نام کریم، جی بی اے 21 غذر 3 میں امان علی، جی بی اے 23 گھانچے 2 میں انور علی اور جی بی اے 24 گھانچے 3 میں اسد شفیق کامیاب قرار پائے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت سازی کے مرحلے میں آزاد ارکان کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے غذر، گھانچے اور بعض دیگر حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ استور کے دونوں حلقوں میں بھی ابتدائی نتائج کے مطابق ن لیگ کو برتری حاصل ہے۔ مجلس وحدت المسلمین نے اسکردو کے حلقہ جی بی اے 8 میں محمد کاظم کی کامیابی کے ذریعے ایک اہم نشست حاصل کی۔
ابھی چند حلقوں کے نتائج مکمل طور پر سامنے آنا باقی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی واضح طور پر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی مضبوط امیدوار ہوگی، تاہم آزاد امیدواروں کی حمایت حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق انتخابی معرکے میں پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے، جبکہ ن لیگ، آزاد امیدوار اور دیگر جماعتیں بھی سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہیں۔ حتمی نتائج کے بعد گلگت بلتستان کی نئی حکومت کے خدوخال مزید واضح ہوں گے۔