وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق پر بڑا فیصلہ جاری کردیا جس میں قرار دیا گیا کہ قبائلی سردار شناختی کارڈ، ڈومیسائل کی تصدیق کے اہل نہیں۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے شناختی کارڈ، ڈومیسائل کا اجراء باقاعدہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔
شناختی دستاویزات کی تصدیق کیلئے قانون میں مجاز حکام کو ہی اختیار دیا گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت کے مطابق کسی قبائلی سردار کو قانون سے ہٹ کر دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لئے اپیل قابل سماعت نہیں ہے،درخواست گزار غلام علی کے مطابق وہ خروٹی قبیلے کا سردار ہے، درخواست گزار کے مطابق اس کے قبیلے کے افراد کیلئے دستاویزات کی تصدیق کروانا ناممکن عمل ہے، شناختی دستاویزات سے محروم کیا گیا۔