چارسدہ میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ بند کر دی۔
تفصیلات کے مطابق، چارسدہ کے علاقے بختیار آباد اور اس سے ملحقہ آبادیوں کے مکین سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے چارسدہ نوشہرہ روڈ کو پولیس لائنز کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور واپڈا کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ شرکاء نے “ظالمانہ لوڈشیڈنگ نامنظور” کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بجلی کی بندش نہ صرف گھریلو معمولات بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق گرمی کے بڑھتے ہوئے موسم میں طویل لوڈشیڈنگ نے صورتحال کو مزید ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔
احتجاجی مظاہرے کے باعث ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل رہی جبکہ بعض مقامات پر پولیس کی نفری بھی موجود رہی تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ تاہم مظاہرین اپنے مطالبات پر ڈٹے رہے اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے رہے۔
مقامی عوام نے حکومت اور پیسکو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔