پشاور اور صوبے کے مختلف علاقوں میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کے باعث مجموعی شارٹ فال تقریباً 4 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔ اس صورتحال نے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں بجلی کی فراہمی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ذرائع کے مطابق بجلی کی کمی کے باعث شہر بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10 سے 14 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ شہری علاقوں میں اوسطاً 6 سے 8 گھنٹے جبکہ نواحی اور دیہی علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
مسلسل اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خصوصاً شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی عدم دستیابی نے روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ گھریلو صارفین کو پانی کی قلت، گرمی اور معمولات زندگی میں رکاوٹ جیسے مسائل درپیش ہیں۔
دوسری جانب کاروباری طبقہ بھی اس بحران سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ چھوٹی صنعتیں، الیکٹرانکس کی دکانیں، مرمتی ورکشاپس اور دیگر کاروباری سرگرمیاں بجلی کی بندش کے باعث ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ تاجروں کے مطابق بار بار بجلی جانے سے نہ صرف کام متاثر ہو رہا ہے بلکہ مشینری اور آلات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو اس شدید اذیت سے نجات مل سکے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پشاور سمیت صوبے کے کئی علاقوں میں بجلی کا بحران ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے فوری حکومتی توجہ کی ضرورت ہے۔