مشرق وسطیٰ کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ بدلتی جا رہی ہے، ایران اور امریکہ کے مابین اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا اگرچہ کوئی حل نہ نکل سکا لیکن اس کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور ہونے کے اشارے ملنے لگے ہیں، اب اس کےدوسری طرف لبنان اور اسرائیل براہ راست مذاکرات پر رضامند ہو گئے، جسے امید کی نئی کرن کہا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن میں ہونے والی ان بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، اب واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی زیر صدارت لبنان اور اسرائیل براہ راست مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس پر امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ فریقین نے باہمی طور پر طے شدہ وقت اور مقام پر براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امید ہے مذاکرات ایک امن معاہدے تک پہنچیں گے، اسرائیل نے دیگر مسائل کے حل اور امن کے حصول کے لیےبراہِ راست مذاکرات کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ادھر اسرائیل نے لبنان کے ساتھ مل کر غیر ریاستی دہشت گرد گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے عزم کا اظہار کیا جبک لبنان نے جنگ بندی اور انسانی بحران سے نمٹنے کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
دوسری طرف لبنان پر اسرائیل کے حملے اب بھی جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 افراد شہید ہوئے ہیں