چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مالاکنڈ کلیم اللہ نے امتحانات کے دوران پرچہ لیک ہونے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیمرگرہ فوٹو اسٹیٹ نزدحبیب بینک کے قریب مبینہ پیپر کی اطلاع پر فوری کارروائی کی گئی تاہم برآمد شدہ مواد 2025 کا پرانا پرچہ نکلا جس کا موجودہ امتحان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اسے سوشل میڈیا پر شرارتاً پھیلایا گیا تاکہ طلبہ کو گمراہ کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ سخاکوٹ سنٹر نمبر 8 گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں امپرسونیشن (دوسرے کی جگہ امتحان دینا) کے دوران دو نجی سکولوں کی طالبات کو پکڑ لیا گیا جن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ ضلع باجوڑ میں بھی اسی نوعیت کے دو کیسز سامنے آئے ہیں جن پر براہ راست ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔چیئرمین نے مزید کہا کہ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے نقل کے رجحان کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں جن میں بعض نجی تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے امتحانی نظام کو شفاف اور میرٹ پر چلایا جا رہا ہے اور حکومت کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے طلبہ اور عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کریں اور امتحانی ضابطہ اخلاق پر عمل کرتے ہوئے شفافیت کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔