پشاور میں جاری میٹرک کے سالانہ امتحانات کے دوران جماعت دہم کے بائیولوجی پرچے کے ایم سی کیوز لیک ہونے کا معاملہ سامنے آنے پر تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کے فوری بعد صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم حرکت میں آ گئے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے اچانک دورہ کرتے ہوئے سید آفاق شہید کینٹ نمبر 3 سکول کے امتحانی مرکز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر امتحانی ڈیوٹی میں غفلت اور نگرانی کے ناقص انتظامات سامنے آنے پر انہوں نے فوری طور پر پورے امتحانی عملے کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ امتحانی عمل میں شفافیت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی قسم کی غفلت یا بدانتظامی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بعد ازاں وزیر تعلیم نے پشاور بورڈ کے دفتر کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے شکایات سیل کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ شکایات کے اندراج اور ان کے فوری ازالے کے لیے مؤثر اور فعال نظام بنایا جائے تاکہ طلبہ اور والدین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق ایم سی کیوز لیک ہونے کے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ امتحانی مراکز کی نگرانی مزید سخت کرنے، عملے کی جوابدہی بڑھانے اور نقل و بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات نہ صرف امتحانی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ محنتی طلبہ کے ساتھ ناانصافی کا سبب بھی بنتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔