وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 اپریل کو پوری دنیا کو بتایا جائے گا کہ پاکستان 2022 میں کہاں کھڑا تھا اور آج کس مقام پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 اپریل 2022 کو بیرونی سازش کے ذریعے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا، جس کے بعد ملک مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کو سوچنا چاہیے کہ جن لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا وہ پاکستان کو کہاں لے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر جی ڈی پی 6 سے 7 فیصد تک بڑھتی اور ایکسپورٹ و زراعت دگنی ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ریجیم چینج کے بعد جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 2.7 فیصد رہ گئی، جبکہ تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر مزید سنگین ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر پہلے ہی دباؤ میں ہیں اور اگر دوست ممالک نے اپنی رقوم واپس مانگ لیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی پالیسی ہے اور نہ وژن، جبکہ تمام تر توانائیاں عمران خان کو جھکانے پر صرف کی جا رہی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ملک میں آئینی بالادستی، عدلیہ اور صحافت کی آزادی کے لیے نوجوانوں کا سڑکوں پر آنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں جلسے کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جہاں روکا گیا وہیں احتجاجی جلسہ کیا جائے گا، تاہم احتجاج ایک دن تک محدود ہوگا۔ اگر حالات خراب کیے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق 9 اپریل کو صبح 11 بجے پشاور سے مرکزی قافلہ روانہ ہوگا جس میں ملحقہ اضلاع کے کارکن بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کنٹیجنسی پلانز تیار کر لیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے ایپکس کمیٹی اجلاس میں واضح حکمت عملی بھی دی گئی تھی، مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور کارکنوں کو بھی سچ بولنے اور قانون کے دائرے میں رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا میں بدامنی بڑھی تو اس کے اثرات دیگر صوبوں تک بھی پہنچیں گے۔
سیاسی حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ مریم نواز خیبرپختونخوا میں جہاں چاہیں جلسہ کر سکتی ہیں، حتیٰ کہ انتظامات بھی فراہم کیے جائیں گے، مگر کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں ان کی جماعت کو بھی لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے اور کارکنوں کو گرفتار نہ کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
قبائلی اضلاع کے انضمام کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت دو آراء موجود تھیں، تاہم عمران خان نے قبائلی عوام میں سے وزیراعلیٰ منتخب کر کے ان علاقوں میں امید کی نئی کرن پیدا کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے متعلق کسی بھی مس ایڈونچر کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔