عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے مولانا محمد ادریس کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں تیزی سے بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا واضح ثبوت ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا ادریس کے ساتھ ان کا ذاتی تعلق اور قربت رہی ہے، اور ان کی شہادت نہ صرف ایک ذاتی نقصان ہے بلکہ پورے صوبے کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ آج خیبر پختونخوا میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔
ایمل ولی خان نے خبردار کیا کہ صوبے میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں عوام خوف اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے حکومتوں کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خاموشی دراصل ان کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق، ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ دوبارہ عدم استحکام کی طرف جا رہا ہے، جہاں کسی بھی شہری یا طبقے کی جان و مال محفوظ نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں اور صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا الزام تراشی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات کو قابو نہ کیا گیا تو عوام اپنے تحفظ کے لیے خود میدان میں نکلنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ امن و امان کی بحالی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس میں مزید غفلت پورے خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔