حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران اور بجلی کے اخراجات پر قابو پانے کیلئے بڑے پیمانے پر انرجی سیونگ اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،جس کے تحت صوبہ بھر میں کاروباری، تجارتی اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے اوقات کار محدود کر
دیے گئے ہیں،سرکاری اعلامیہ کے مطابق ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں کل سے تمام مارکیٹس، پلازے اور شاپنگ سینٹرز رات 9 بجے بند ہوں گے جبکہ دیگر اضلاع میں کاروباری سرگرمیوں کو رات 8 بجے تک محدود کر دیا گیا ہے، اس اقدام کا مقصد غیر ضروری بجلی کے استعمال کو کم کرنا اور توانائی کے ضیاع کو روکنا ہے،
حکومت نے ریسٹورنٹس، کیفے اور ہوٹلز کیلئے بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جن کے تحت یہ تمام کاروبار رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے، تاہم عوامی سہولت کے پیش نظر ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروسز جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے،اسی طرح شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کو بھی رات 10 بجے تک محدود کر دیا گیا ہے،نوٹیفکیشن کے تحت پرائیویٹ دفاتر، بینکس، تعلیمی اکیڈمیز، دکانیں، جم اور دیگر کمرشل سرگرمیاں بھی ان اوقات کار کی پابند ہوں گی،
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات توانائی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔دوسری جانب کچھ شعبوں کو ان پابندیوں سے مستثنی قرار دیا گیا ہے،ان میں زرعی سرگرمیاں، تعمیراتی کام، ہسپتال، لیبارٹریز اور ایمرجنسی سروسز شامل ہیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو، میڈیکل سٹورز کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے،
تاہم انہیں صرف ادویات کی فروخت تک محدود رکھا جائے گا،اسی طرح تندور، پٹرول پمپس اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی مخصوص حد تک استثنی دیا گیا ہے جبکہ صنعتی یونٹس اور فیکٹریاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گی، تاہم انہیں غیر ضروری لائٹنگ کے استعمال سے گریز کرنا ہوگا۔حکومت نے توانائی کے ضیاع کو روکنے کیلئے سخت ہدایات جاری کی ہیں، جن کے تحت تمام بلڈنگز، پلازہز اور ایونٹ مقامات پر ڈیکوریٹو اور فلڈ لائٹس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے،
مارکیٹس میں اضافی روشنی ختم کرنے اور صرف ضروری لائٹنگ تک محدود رہنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے،اس کے علاوہ بل بورڈز، ایل ای ڈی اسکرینز اور سائن بورڈز بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد اے سی، لفٹس اور ایسکلیٹرز کے استعمال پر پابندی ہوگی جبکہ غیر ضروری کمرشل سرگرمیوں کیلئے جنریٹر کے استعمال کی بھی اجازت نہیں ہوگی،سرکاری دفاتر میں بھی سخت انرجی سیونگ پالیسی نافذ کی گئی ہے۔
تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر موجودگی کی صورت میں برقی آلات مکمل طور پر بند رکھے جائیں اور دفتری اوقات کے بعد غیر ضروری سرگرمیوں سے اجتناب کیا جائے، صرف ہنگامی حالات میں دفاتر کھولنے کی اجازت ہوگی،نوٹیفکیشن میں تمام ڈپٹی کمشنرز کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ان اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف معائنہ، چیکنگ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،حکام کے مطابق یہ اقدامات وقتی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد صوبے میں بجلی کے استعمال کو کنٹرول کرنا اور حکومتی و عوامی اخراجات میں کمی لانا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان احکامات کا اطلاق 6 اپریل 2026 سے ہوگا، جس کے بعد صوبہ بھر میں انرجی سیونگ پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا