گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او آرڈیننس کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض کر دیئے۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختونخوا کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق گورنر نے ایم پی او آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3 کی ذیلی دفعہ ایک کے تحت یہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کو منتقل کیے ہیں۔
ڈپٹی کمشنرز کو اختیارات کی منتقلی کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں امن و امان اور انتظامی معاملات سے متعلق فیصلے کیے جا رہے ہیں، ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی، سکیورٹی اور حکومتی امور چلانے کیلیے متعدد اقدامات کیے گئے، جن میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل کا قیام، سول انتظامیہ کی معاونت کیلئے فوج کی تعیناتی اور 12 اضلاع کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے کی تشکیل شامل ہے۔
اعلامیے کے مطابق ضلعی پولیس افسر کی جانب سے کیس موصول ہونے پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر فوری کارروائی کرے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی کے اعلان کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد انتظامی تاخیر کم کرنا اور امن و امان سے متعلق بروقت اقدامات یقینی بنانا ہے۔
اعلامیے کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ فیصلے سے ضلعی سطح پر 3 ایم پی او کے تحت مقدمات پر تیز رفتار کارروائی ہو گی۔
فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اختیارات کا استعمال آئین اور قانون کے مطابق کریں اور ان کا کسی صورت غلط استعمال نہ ہو۔ عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔