آمدن 16 کھرب 19 ارب 87 کروڑ، اخراجات 14 کھرب 55 ارب 3 کروڑ رہے
خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے اختتام پر 164 ارب 84 کروڑ روپے کا مجموعی بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا ہے۔
وزارت خزانہ حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے جون 2026 تک خیبر پختونخوا کی مجموعی آمدن 16 کھرب 19 ارب 87 کروڑ روپے رہی جبکہ مجموعی اخراجات 14 کھرب 55 ارب 3 کروڑ روپے ریکارڈ کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق آمدن اور اخراجات کے فرق کے نتیجے میں مالی سال کے اختتام پر صوبے کا مجموعی بجٹ بیلنس 164 ارب 84 کروڑ روپے رہا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت منتقل ہونے والے 12 کھرب 44 ارب 51 کروڑ روپے میں سے صوبائی ٹیکسوں سے 183 ارب 95 کروڑ روپے، صوبائی نان ٹیکس آمدن سے 94 ارب 69 کروڑ روپے جبکہ قبائلی اضلاع کے ضمنی گرانٹ میں 196 ارب 71 کروڑ روپے ریکارڈ کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق صوبائی ٹیکس آمدن میں پراپرٹی ٹیکس سے 49 کروڑ 70 لاکھ روپے، ایکسائز ڈیوٹی سے 4 کروڑ روپے، اسٹامپ ڈیوٹی سے 13 ارب 8 کروڑ روپے، موٹر وہیکل ٹیکس سے 13 ارب 51 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ دیگر ٹیکسوں سے 27 ارب 89 کروڑ 30 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔
صوبائی نان ٹیکس آمدن میں مارک اپ کی مد میں 27 ارب 74 کروڑ 80 لاکھ روپے، پینلٹی/جرمانوں کی مد میں 30 ارب روپے، آبپاشی سے 40 کروڑ روپے جبکہ دیگر ذرائع سے 36 ارب 54 کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال کے دوران صوبے کے مجموعی اخراجات 14 کھرب 55 ارب 3 کروڑ روپے رہے، جن میں 11 کھرب 79 ارب 5 کروڑ روپے جاری اخراجات اور 60 ارب روپے موجودہ اخراجات شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کے واجب الادا ادائیگیوں میں 17 ارب 23 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ دیگر مد میں 70 ارب 72 کروڑ روپے کے اخراجات بھی شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے اختتام پر 164 ارب 84 کروڑ روپے کا بجٹ سرپلس حاصل کیا۔