خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کا بحران بدستور برقرار ہے۔ صوبے بھر میں سرپلس اساتذہ کی ایڈجسٹمنٹ اور حالیہ تبادلوں و بھرتیوں کے باوجود 15 ہزار 684 اساتذہ کی کمی سامنے آئی ہے۔
خیبر پختونخوا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی 2026 کی رپورٹ میں سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی، تبادلوں، نئی بھرتیوں اور طلبہ و اساتذہ کے تناسب سے متعلق تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبے کے 45.1 فیصد لڑکوں اور 41.6 فیصد لڑکیوں کے سرکاری سکول اساتذہ کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
لڑکوں کے سکولوں میں 13 ہزار 508 اساتذہ کی کمی جبکہ 2 ہزار 870 اساتذہ سرپلس ہیں، جس کے بعد خالص کمی 10 ہزار 727 اساتذہ رہ جاتی ہے۔
اسی طرح لڑکیوں کے سکولوں میں 7 ہزار 911 اساتذہ کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 3 ہزار 284 اساتذہ سرپلس ہیں، جس کے بعد خالص کمی 4 ہزار 957 اساتذہ رہ جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اساتذہ کی تعیناتی کے لیے طلبہ کی تعداد کو بنیادی معیار بنایا گیا ہے۔ 59 تک طلبہ کے لیے 2 اساتذہ، 60 سے 99 طلبہ کے لیے 3، 100 طلبہ کے لیے 4 اور 140 طلبہ کے لیے 5 اساتذہ مقرر کرنے کا معیار طے کیا گیا ہے، جبکہ ہر مزید 40 طلبہ کے اضافے پر ایک اضافی استاد مقرر کیا جائے گا۔
دستاویز کے مطابق مارچ 2026 سے صوبے بھر میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تبادلے اور بھرتیاں بھی کی گئی ہیں۔ اس دوران مجموعی طور پر 9 ہزار 198 اساتذہ کے تبادلے کیے گئے، جن میں 6 ہزار 459 مرد اور 2 ہزار 739 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔