سوات: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کے بعد سوات پہنچ گئے، جہاں انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر معاونِ خصوصی برائے داخلہ طارق سعید، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ نے سوات میں امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہیں دھماکے، سکیورٹی صورتحال اور جاری کارروائیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس اور معصوم شہریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، جبکہ امن کے قیام کے لیے عوام، پولیس اور تمام سیاسی و مذہبی قوتوں کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن مرحلہ جاری ہے اور اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت خیبرپختونخوا پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو تمام ضروری وسائل فراہم کر رہی ہے، جبکہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ 22 برس سے دہشت گردی کے خلاف بہادری سے نبرد آزما ہے اور یہ ایک باصلاحیت، نڈر اور پیشہ ور فورس ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت اپنی پالیسی کے مطابق خیبرپختونخوا میں امن بحال کرکے دکھائے گی، جبکہ مالی سال 2026-27 کو امن، ترقی اور خوشحالی کا سال بنایا جائے گا۔